کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ نچلا ہاتھ وہ ہے جو مانگتا ہے، نہ کہ وہ جو بغیر مانگے لیتا ہے
حدیث نمبر: 3362
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بنِ الصّبَّاح ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الزَّعْرَاءِ ، عَنْ أَبِي الأَحُوَصِ ، عَنْ أَبِيهِ مَالِكِ بْنِ نَضْلَة ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الأَيْدِي ثَلاثَةٌ : فَيَدُ اللَّهِ الْعُلِيَا ، وَيَدُ الْمُعْطِي الَّتِي تَلِيهَا ، وَيَدُ السُّفْلَى السَّائِلَةُ ، فَأَعْطِ الْفَضْلَ ، وَلا تَعْجِزْ عَنْ نَفْسِكِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي هَذَا الْخَبَرِ بَيَانٌ وَاضِحٌ بِأَنَّ الأَخْبَارَ الَّتِي ذَكَرْنَاهَا قَبْلُ فِي كِتَابِنَا هَذَا ، أَنَّ الِيَدَ الْعُلِيَا خَيْرٌ مِنَ الِيَدِ السُّفْلَى ، أَرَادَ بِهِ أَنَّ يَدَ الْمُعْطِي خَيْرٌ مِنْ يَدِ الآخِذِ ، وَإِنْ لَمْ يَسْأَلْ ، وَأَبُو الزَّعْرَاءِ هَذَا : هُوَ الصَّغِيرُ ، وَاسْمُهُ : عَمْرُو بْنُ عَمْرِو بْنِ مَالِكِ بْنِ أَخِي أَبِي الأَحُوَصِ ، وَأَبُو الزَّعْرَاءِ الْكَبِيرُ : اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَانِئٍ ، يَرُوِي عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ " .
سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” ہاتھ تین طرح کے ہوتے ہیں اوپر والا ہاتھاللہ تعالیٰ کا ہے، دینے والا ہاتھ اس کے بعد ہے اور نیچے والا ہاتھ مانگنے والے کا ہے، تو تم اضافی چیز کو دے دیا کرو اور اپنی ذات کے حوالے سے عاجز نہ آؤ۔ “ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ وہ روایات، جنہیں ہم اس سے پہلے اپنی کتاب میں ذکر کر چکے ہیں۔ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ اس سے مراد یہ ہے: دینے والے کا ہاتھ لینے والے سے بہتر ہوتا ہے۔ اگرچہ اس نے مانگا نہ ہو۔ ابوزعراء نامی راوی صغیر ہے اس کا نام عمرو بن عمرو بن مالک ہے۔ (مالک کا باپ) ابواحوص کا بھائی ہے جبکہ ابوزعراء کبیر کا نام عبداللہ بن ہانی ہے۔ اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایات نقل کی ہیں۔