کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کہ عورت اپنے شوہر کے مال سے صدقہ کرے جب تک کہ اس سے اسے نقصان نہ ہو
حدیث نمبر: 3357
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا جَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، لَيْسَ لِي شَيْءٌ إِلا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ ، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ جُنَاحٍ أَنْ أَرْضَخَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيَّ ؟ قَالَ : " ارْضَخِي مَا اسْتَطَعْتِ ، وَلا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے عرض کی: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس صرف وہی چیز ہوتی ہے، جو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ مجھے دیتے ہیں، تو وہ مجھے جو دیتے ہیں اگر اس میں سے کچھ خرچ کر لوں، تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم سے جہاں تک ہو سکے تم خرچ کرو اور تم (خرچ کرتے ہوئے) بندش کرنے کی کوشش نہ کرنا ورنہاللہ تعالیٰ بھی تم پر بندش کر دے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3357
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1490): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3346»