کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی صدقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آدمی اپنا صدقہ اسے دے جو اسے لے اور اگر وہ اسے اللہ کی نافرمانی میں خرچ کرے، جب تک کہ دینے والے کو اس کا ابتداً علم نہ ہو
حدیث نمبر: 3356
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الدَّغُولِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُشْكَانَ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْرَجُ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ رَجُلٌ : لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ زَانِيَةٍ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى زَانِيَةٍ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى زَانِيَةٍ ! لأَتَصَدَّقَنَّ بِصَدَقَةٍ ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ سَارِقٍ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى سَارِقٍ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى سَارِقٍ ، لأَتَصَدَّقَنَّ اللَّيْلَةَ بِصَدَقَةٍ ، فَخَرَجَ بِصَدَقَتِهِ ، فَوَضَعَهَا فِي يَدِ غَنِيٍّ ، فَأَصْبَحَ النَّاسُ يَتَحَدَّثُونَ : تُصُدِّقَ اللَّيْلَةَ عَلَى غَنِيٍّ ، فَقَالَ : اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ عَلَى غَنِيٍّ ، فَأُتِيَ ، فَقِيلَ : أَمَّا صَدَقَتُكَ ، فَقَدْ قُبِلَتْ ، أَمَّا الزَّانِيَةُ ، فَلَعَلَّهَا تَسْتَعِفُّ بِهَا عَنْ زِنَاهَا ، وَأَمَّا السَّارِقُ ، فَلَعَلَّهُ يَسْتَعِفُّ عَنْ سَرِقَتِهِ ، وَلَعَلَّ الْغَنِيَّ يَعْتَبِرُ ، فَيُنْفِقُ مِمَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ تَعَالَى " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” ایک شخص نے طے کیا کہ میں ضرور صدقہ کروں گا وہ اپنے صدقے کو لے کر نکلا اور (اندھیرے میں لاعلمی کی وجہ سے) کسی زانیہ عورت کے ہاتھ میں رکھ آیا اگلے دن لوگ آپس میں بات چیت کر رہے تھے گزشتہ رات ایک زانیہ عورت کو کسی نے صدقہ دیا ہے، تو اس شخص نے کہا: اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے (اگرچہ میرا صدقہ) زانیہ عورت کو ملا ہے میں ضرور پھر صدقہ کروں گا پھر وہ شخص اپنے صدقے کو لے کر نکلا اور اس نے (اندھیرے میں لاعلمی کی وجہ سے) کسی چور کے ہاتھ میں اسے رکھ دیا اگلے روز لوگ بات چیت کر رہے تھے گزشتہ رات کسی چور کو صدقہ دیا گیا ہے، تو وہ شخص بولا: اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے (اگرچہ میرا صدقہ) ایک چور کے ہاتھ میں چلا گیا ہے میں آج بھی ضرور صدقہ کروں گا پھر وہ شخص اپنا صدقہ لے کر نکلا اور اس نے اسے ایک خوشحال شخص کے ہاتھ پر رکھ دیا اگلے دن لوگ بات کر رہے تھے گزشتہ رات ایک خوشحال شخص کو صدقہ دے دیا گیا، تو وہ شخص بولا: اے اللہ! حمد تیرے لیے مخصوص ہے (اگرچہ میرا صدقہ) ایک خوشحال شخص کو ملا ہے پھر اسے (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں) لایا گیا، تو اسے بتایا گیا، جہاں تک تمہارے صدقے کا تعلق ہے، تو وہ قبول ہو گیا ہے زانیہ عورت کو ملنے والا اس لیے قبول ہوا کہ شاید وہ اس کے ملنے کی وجہ سے زنا کرنے سے باز آ جائے، چور والا اس لیے قبول ہوا شاید وہ اس کی وجہ سے چوری سے بچ جائے اور خوشحال شخص والا اس لیے قبول ہوا کہ وہ اس سے نصیحت حاصل کرے اوراللہ تعالیٰ نے جو اسے عطا کیا ہے وہ اس میں سے کچھ خرچ کرے۔ “