کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ ہر سال اپنے اموال سے باقی ماندہ مال کا تہائی حصہ صدقہ کرے
حدیث نمبر: 3355
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَيْنَمَا رَجُلٌ بِفَلاةٍ مِنَ الأَرْضِ إِذْ رَأَى سَحَابَةً فَسَمِعَ فِيهَا صَوْتًا : اسْقِ حَدِيقَةَ فُلانٍ ، فَجَاءَ ذَلِكَ السَّحَابُ ، فَأَفْرَغَ مَا فِيهِ فِي حُرَّةٍ ، قَالَ : فَانْتَهَيْتُ ، فَإِذَا فِيهَا أَذْنَابُ شِرَاجٍ ، وَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْكَ الشُّرَجِ قَدِ اسْتَوْعَبَتِ الْمَاءَ فَسَقَتْهُ ، فَانْتَهَيْتُ إِلَى رَجُلٍ قَائِمٍ يَحُولُ الْمَاءَ بِمِسْحَاتِهِ فِي حَدِيقَةٍ ، فَقُلْتُ لَهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، مَا اسْمُكَ ؟ فَقَالَ : فُلانٌ ، الاسْمُ الَّذِي سَمِعَ فِيَ السَّحَابَةِ ، قَالَ : كَيْفَ تَسْأَلُنِي يَا عَبْدَ اللَّهِ عَنِ اسْمِي ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ فِيَ السَّحَابَةِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهَا يَقُولُ : اسْقِ حَدِيقَةَ فُلانٍ بِاسْمِكَ ، فَأَخْبِرْنِي مَا تَصْنَعُ فِيهَا ، قَالَ : أَمَا إِذَا قُلْتَ هَذَا ، فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَى مَا خَرَجَ مِنْهَا ، فَأَصَّدَقُ بِثُلُثِهِ ، وَآكُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثَهُ ، وَأُعِيدُ فِيهَا ثُلُثَهُ " .
سیدنا ابوہریره رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک شخص ویران جگہ پر موجود تھا اس نے ایک بادل دیکھا جس میں اسے آواز سنائی دی (یعنی کسی فرشتے نے بادل کو حکم دیا) تم فلاں شخص کے باغ کو سیراب کرو پھر وہ بادل وہاں آیا اور وہاں اس نے ایک پتھریلی زمین پر بارش نازل کی وہ شخص کہتا ہے جب میں اس جگہ پر پہنچا، تو وہاں سے کچھ نالیاں نکل رہی تھیں ان میں سے ایک نالی پانی سے بھری ہوئی تھی جو کسی جگہ کو سیراب کرتی تھی میں وہاں ایک شخص کے پاس پہنچا جو کھڑا ہوا بیلچے کے ذریعے اپنے باغ میں کام کر رہا تھا اور وہ پانی لگا رہا تھا میں نے اس سے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے تمہارا نام کیا ہے؟ اس نے جواب دیا: فلاں۔ یہ وہی نام تھا جو اس شخص نے بادل میں سنا تھا اس شخص نے دریافت کیا: اے اللہ کے بندے تم مجھ سے میرا نام کیوں پوچھ رہے ہو؟ اس نے بتایا: میں نے بادل میں جس سے یہ پانی آیا ہے اس میں یہ سنا تھا کہ فرشتہ یہ کہہ رہا تھا کہ تم فلاں بندے کے باغ کو سیراب کرو اس نے تمہارا نام لیا تھا، تو تم مجھے بتاؤ کہ تم اس باغ میں کیا کرتے ہو اس نے کہا: اب جب تم یہ بات کہہ رہے ہو تو میں تمہیں بتا دیتا ہوں کہ اس کی جتنی بھی پیداوار ہوتی ہے میں اس کے ایک تہائی حصے کو صدقہ کر دیتا ہوں اور ایک تہائی حصے کو اپنے اوپر اور بیوی بچوں پر خرچ کرتا ہوں اور ایک تہائی حصہ دوبارہ اس پر لگا دیتا ہوں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3355
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1197). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3344»