کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا استحباب کہ صدقہ اس پر خرچ کیا جائے جو مانگتا نہ ہو، نہ کہ اس پر جو مانگتا ہو
حدیث نمبر: 3352
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، بِمَنْبِجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ بِهَذَا الطَّوَّافِ الَّذِي يَطُوفُ عَلَى النَّاسِ تَرُدُّهُ اللُّقْمَةُ وَاللُّقْمَتَانِ ، وَالتَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ " ، قَالُوا : فَمَنِ الْمِسْكِينُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الَّذِي لا يَجِدُ غِنًى يُغْنِيهِ ، وَلا يُفْطَنُ لَهُ فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ ، وَلا يَقُومُ فَيَسْأَلُ النَّاسَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” غریب وہ نہیں ہوتا جو لوگوں کے گھر چکر لگاتا ہے ایک یا دو لقمے لے کر ایک یا دو کھجوریں لے کر واپس چلا جاتا ہے۔ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! پھر غریب کون ہوتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جس کے پاس اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے کوئی چیز نہ ہو اور اس کی حالت کا پتہ بھی نہ چل سکے کہ اسے صدقہ ہی کر دیا جائے اور وہ خود کھڑا ہو کر لوگوں سے مانگتا بھی نہیں ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3352
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3341»