کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا استحباب کہ صدقہ اس پر خرچ کیا جائے جس کی حاجت یا استغنا کا علم نہ ہو
حدیث نمبر: 3351
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الُوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ ، وَالأَكْلَةُ وَالأَكْلَتَانِ ، وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَيْسَ لَهُ مَا يَسْتَغْنِي بِهِ ، وَلا يُعْلَمُ بِحَاجَتِهِ ، فَيُتَصَدَّقُ عَلَيْهِ ، فَذَلِكَ الْمَحْرُومُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” غریب وہ نہیں ہے، جو ایک یا دو کھجوریں لے کر ایک یا دو لقے لے کر واپس چلا جائے غریب وہ شخص ہے، جس کے پاس وہ چیز نہ ہو جو اس کی ضروریات کو پوری کرے اور اس کے حاجت مند ہونے کا پتہ بھی نہ چل سکے کہ اسے صدقہ ہی کر دیا جائے ” محروم “ سے مراد یہ شخص ہے (جس کا ذکر قرآن میں ہے)۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3351
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح دون قوله: «فذلك المحروم»؛ فَإِنَّهُ مقطوع من كلام الزُّهْرِيّ - «صحيح أبي داود» (1442): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3340»