کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ تھوڑے مال سے تھوڑا صدقہ زیادہ مال سے زیادہ صدقہ سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 3347
أَخْبَرَنَا حَاجِبُ بْنُ أَرْكِينَ الْفَرْغَانِيُّ ، بِدِمَشْقَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا صَفُوَانُ بْنُ عِيسَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَبَقَ دِرْهَمٌ مِائَةَ أَلْفٍ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَكَيْفَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " رَجُلٌ لَهُ مَالٌ كَثِيرٌ أَخَذَ مِنْ عُرْضِهِ مِائَةَ أَلْفٍ ، فَتَصَدَّقَ بِهَا ، وَرَجُلٌ لَيْسَ لَهُ إِلا دِرْهَمَانِ ، فَأَخَذَ أَحَدَهُمَا ، فَتَصَدَّقَ بِهِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بعض اوقات ایک درہم ایک لاکھ درہموں پر سبقت لے جاتا ہے۔ ایک صاحب نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہ کیسے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص کے پاس بہت زیادہ مال ہوتا ہے وہ اپنے مال میں سے ایک لاکھ درہم لیتا ہے اور انہیں صدقہ کر دیتا ہے اور ایک شخص کے پاس صرف دو درہم ہوتے ہیں وہ ان میں سے ایک لے کر اسے صدقہ کر دیتا ہے۔