کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی پر لازم ہے کہ اگر وہ صدقہ دینا چاہے تو قریبی سے قریبی تر سے شروع کرے، نہ کہ بعید سے بعید تر سے
حدیث نمبر: 3341
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ طَارِقٍ الْمُحَارِبِيِّ ، قَالَ : ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يَخْطُبُ النَّاسَ ، وَهُوَ يَقُولُ : " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلِيَا ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ ، أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " .
سیدنا طارق محاربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر میں مدینہ منورہ آیا وہاں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے لوگوں کو خطبہ دے رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی۔ ” دینے والا ہاتھ اوپر والا ہے اور تم اپنے زیر کفالت (پر خرچ کرنے) سے آغاز کرو جو تمہاری والدہ، تمہارا باپ، تمہاری بہن، تمہارا بھائی ہے اور پھر درجہ بد درجہ قریبی عزیز ہیں۔ “