کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا استحباب کہ آدمی اپنے صدقہ کو اپنے والدین پر، پھر اپنی قرابت پر، پھر قریبی سے قریبی تر پر ترجیح دے
حدیث نمبر: 3339
أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ حِبَّانَ أَبُو جَابِرٍ ، بِالْمَوْصِلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحِيَى بْنِ فَيَّاضٍ الزِّمَّانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ ، عَنْ عَزْرَةَ بْنِ ثَابِتٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ أَعْتَقَ مَمْلُوكًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ مِنْهُ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَبَاعَهُ ، وَدَفَعَ إِلَيْهِ ثَمَنَهُ ، وَقَالَ : " ابْدَأْ بِنَفْسِكَ ، فَتَصَدَّقْ عَلَيْهَا ، ثُمَّ عَلَى أَبَوَيْكَ ، ثُمَّ عَلَى قَرَابَتِكَ ، ثُمَّ هَكَذَا ، ثُمَّ هَكَذَا " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بنو عزرہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اپنے غلام کو مدبر کے طور پر آزاد کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا اسے فروخت کیا اور اس کی قیمت اس شخص کے سپرد کی اور پھر فرمایا اپنی ذات سے آغاز کرو اس پر خرچ کرو پھر اپنے ماں باپ پر خرچ کرو پھر اپنے قریبی رشتے داروں پر کرو پھر اس طرح اور اس طرح کرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3339
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3328»