کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی کا اپنی صحت کی حالت میں صدقہ اس صدقہ سے بہتر ہے جو وہ موت کے وقت کرتا ہے
حدیث نمبر: 3335
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ ، تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمَلُ الْغِنَى ، وَلا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ، قُلْتَ : لِفُلانٍ كَذَا وَلِفُلانٍ كَذَا ، أَلا وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کون سا صدقہ زیادہ بڑا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ کہ تم ایسی حالت میں صدقہ کرو کہ تم تندرست ہو اور تمہیں مال کی قلت کا اندیشہ بھی ہو اور خوشحالی کی خواہش بھی ہو تم اسے اتنی تاخیر سے نہ کرو کہ جان حلق تک پہنچ جائے پھر تم یہ کہو کہ فلاں کو اتنا مل جائے اور فلاں کو اتنا مل جائے، حالانکہ وہ ویسے ہی فلاں کو مل جانا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3335
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - وقد مضى (435). تنبيه!! رقم (435) = (434) من «طبعة المؤسسة». لكنه غير موجود بالرقم المشار إليه وإنما موجود برقم (3301) الموافق لـ (3312) - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3324»