کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی صدقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص صدقہ نہ دے وہ بخیل ہے
حدیث نمبر: 3332
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ أَوْ جَنَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ لَدُنْ ثُدِيِّهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا ، فَأَمَّا الْمنْفِقُ ، فَكُلَمَا تَصَدَّقَ وَحَدَّثَ نَفْسَهُ ذَهَبَتْ عَنْ جِلْدِهِ ، حَتَّى تَعْفُوَ أَثَرَهُ وَتَجُوزَ بَنَانَهُ ، وَالْبَخِيلُ كُلَمَا أَنْفَقَ شَيْئًا وَحَدَّثَ بِهِ نَفْسَهُ ، لَزِمَتْهُ وَعَضَّتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مِنْهَا مَكَانَهَا ، فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلا تَتَّسِعُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” کنجوسی کرنے والے اور صدقہ کرنے والے کی مثال دو ایسے آدمیوں کی طرح ہے جن پر لوہے کے بنے ہوئے دو جبے یا دو زرہیں ہوتی ہیں جو ان کے سینے سے لے کر ان کی گردن تک ہوتی ہے خرچ کرنے والا شخص جب بھی صدقہ کرتا ہے اور اس کا ارادہ کرتا ہے، تو اس کی جلد سے وہ زرہ ہٹ جاتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس کے پاؤں کے نشان کو ڈھانپ لیتی ہے اور انگلیوں کے پوروں پر آ جاتی ہے (یعنی نیچے گر جاتی ہے) اور کنجوس شخص جب بھی کوئی چیز خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے اور وہ اس بارے میں سوچتا ہے، تو وہ زرہ اور مضبوط ہو جاتی ہے اور اس کا ہر حلقہ اپنی جگہ پر جم جاتا ہے وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ کشیدہ نہیں ہوتی۔ “