کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کی اطلاع جو مسلمان کے لیے مستحب ہے کہ وہ اپنی آخرت کی فکر کرے اور اس دنیا سے جو کچھ ممکن ہو اپنے لیے آگے بھیجے
حدیث نمبر: 3330
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّكُمْ مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ ؟ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِ وَارِثِهِ ، قَالَ : " اعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ " ، قَالُوا : مَا نَعْلَمُ إِلا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ إِلا مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ " ، قَالُوا : كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّمَا مَالُ أَحَدِكُمْ مَا قَدَّمَ ، وَمَالُ وَارِثِهِ مَا أَخَّرَ " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” تم میں سے کون شخص ایسا ہے، جسے اپنا مال اپنے وارث کے مال سے زیادہ محبوب ہو؟ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم میں سے ہر ایک شخص کو اپنے وارث کے مال کے مقابلے میں اپنا مال زیادہ محبوب ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ دیکھ لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم، تو یہی سمجھتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کے نزدیک اس کے وارث کا مال اس کے اپنے مال سے زیادہ محبوب ہے۔ لوگوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کیسے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی ایک شخص کا مال وہ ہے، جسے وہ (صدقہ و خیرات کر کے) آگے بھیج دے اور اس کے وارث کا مال وہ ہے، جسے وہ (مرنے کے بعد) پیچھے چھوڑ جائے۔ “