کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کی اطلاع جو آدمی پر لازم ہے کہ وہ اس کے لیے جو اس نے آگے بھیجا اس میں اختلاف کی توقع رکھے اور اگر اس نے روک لیا تو اس کے برعکس کی توقع رکھے
حدیث نمبر: 3329
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلامُ بْنُ مِسْكِينٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ خُلَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَصَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلا بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانَ يُنَادِيَانِ ، يُسْمِعَانِ مَنْ عَلَى الأَرْضِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ : أَيُّهَا النَّاسُ ، هَلَمُوا إِلَى رَبِّكُمْ ، مَا قُلَّ وَكَفِي خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى ، وَلا غَرَبَتْ إِلا بِجَنْبَتَيْهَا مَلَكَانَ يُنَادِيَانِ : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا ، وَأَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا " .
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب سورج نکلتا ہے، تو اس کے دونوں طرف دو فرشتے ہوتے ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں اور ان کی آواز انسانوں اور جنوں کے علاوہ تمام روئے زمین کو سنائی دیتی ہے اے لوگو! اپنے پروردگار کی طرف آؤ جو چیز تھوڑی ہو اور کفایت کر جائے وہ اس سے بہتر ہے، جو زیادہ ہو اور غافل کر دے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:) سورج جب غروب ہوتا ہے، تو دو فرشتے اس کے پہلوؤں میں یہ اعلان کرتے ہیں: اے اللہ! (اپنی راہ) میں خرچ کرنے والے کو مزید دے اور نہ کرنے والے کا نقصان کر دے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3329
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (920)، «تخريج فقه السيرة» (446)، وقد مضى طرف منه برقم (685). تنبيه!! رقم (685) = (686) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3319»