کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ آدمی کے مال سے وہی باقی رہتا ہے جو اس نے اپنے لیے آگے بھیجا تاکہ وہ اپنی فقر اور حاجت کے دن اس سے نفع اٹھائے، اللہ ہمیں اس دن میں برکت دے
حدیث نمبر: 3327
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقْرَأُ : " أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ سورة التكاثر آية 1 " ، قَالَ : " يَقُولُ ابْنُ آدَمَ : مَالِي مَالِي ، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ " .
مطرف بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت یہ آیت تلاوت کر رہے تھے: ” کثرت تمہیں غافل کر دے گی ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدم کا بیٹا کہتا ہے میرا مال میرا مال، حالانکہ تمہارا مال صرف وہ ہے، جسے تم کھا کر فنا کر دو یا، جسے تم پہن کر پرانا کر دو، یا صدقہ کر کے آگے بھیج دو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3327
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (699). تنبيه!! رقم (699) = (701) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3317»