کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نفلی صدقہ کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر عورتوں کو زیادہ صدقہ دینے کی ترغیب دی گئی
حدیث نمبر: 3323
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ : سَمِعْتُ ذَرًّا ، يُحَدِّثُ عَنْ وَائِلِ بْنِ مُهَانَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِلنِّسَاءِ : " تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ " ، قَالَتِ امْرَأَةٌ : لَيْسَتْ مِنْ عِلِيَةِ النِّسَاءِ : بِمَ ، أَوْ لِمَ ؟ قَالَ : " إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : مَا مِنْ نَاقِصَاتِ الْعَقْلِ وَالدَّيْنِ أَغْلَبُ عَلَى الرِّجَالِ ذَوِي الأَمْرِ عَلَى أَمْرِهِمْ مِنَ النِّسَاءِ ، قِيلَ : وَمَا نُقْصَانُ عَقْلِهَا وَدِينِهَا ؟ قَالَ : أَمَّا نُقْصَانُ عَقْلِهَا ، فَإِنَّ شَهَادَةَ امْرَأَتَيْنِ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ ، وَأَمَّا نُقْصَانُ دِينِهَا ، فَإِنَّهُ يَأْتِي عَلَى إِحْدَاهِنَّ كَذَا وَكَذَا مِنْ يَوْمٍ لا تُصَلِّي فِيهِ صَلاةً وَاحِدَةً " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے فرمایا: ” تم صدقہ و خیرات کیا کرو، کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ہے ایک خاتون جو کسی بڑے خاندان کی نہیں تھی اس نے دریافت کیا: اس کی وجہ کیا ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) کیوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لعنت بکثرت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو ۔“ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص خواتین لوگوں کے معاملات میں سمجھدار لوگوں پر غالب آ جاتی ہیں دریافت کیا گیا: ان خواتین کی عقل اور دین میں کیا کمی ہے، تو انہوں نے فرمایا: جہاں تک ان کی عقل کا تعلق ہے اس کی صورت یہ ہے کہ دو خواتین کی گواہی ایک مرد کے برابر ہوتی ہے جہاں تک ان کے دین کی کمی کا تعلق ہے، تو اس کی صورت یہ ہے کہ ہر عورت پر کچھ ایسے دن آتے ہیں جن میں وہ ایک بھی نماز ادا نہیں کر سکتی۔