کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے کثرت سے صدقہ دینے والے کی مثال لمبے ہاتھ والے سے دی
حدیث نمبر: 3315
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ السَّدُوسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّ نِسَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْتَمَعْنَ عِنْدَهُ لَمْ تُغَادِرْ مِنْهُنَّ وَاحِدَةٌ ، قَالَتْ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيَّتُنَا أَسْرَعُ بِكَ لُحُوقًا ؟ فَقَالَ : " أَطُوَلُكُنَّ يَدًا " ، قَالَ : فَأَخَذْنَ قَصَبَةً يَتَذَارَعْنَهَا ، فَمَاتَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ ، وَكَانَتْ كَثِيرَةَ الصَّدَقَةِ ، فَظَنَنَّا أَنَّهُ قَالَ : أَطُوَلُكُنَّ يَدًا بِالصَّدَقَةِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جمع تھیں ان میں سے کوئی بھی غیر موجود نہیں تھی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے پہلے، ہم میں سے کون ملے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کا ہاتھ زیادہ لمبا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ازواج مطہرات نے ایک لکڑی لی اور اس کے ذریعے اپنے ہاتھوں کی پیمائش کرنے لگیں، تو سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کا انتقال پہلے ہوا کیونکہ وہ بکثرت صدقہ کیا کرتی تھیں (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) ہم نے یہ گمان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ جس کا ہاتھ زیادہ لمبا ہو اس سے مراد یہ ہے کہ جو زیادہ صدقہ کرتی ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3315
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه: خ، لكنَّ ذِكْرَ سودَة وَهْمٌ، والمَحفوُظ: «زينب»؛ كما في الذي قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3304»