کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نفلی صدقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ صحت مند، بخیل، فقر سے ڈرنے والے اور لمبی عمر کی امید رکھنے والے کا صدقہ اس سے بہتر ہے جو اس طرح نہ ہو
حدیث نمبر: 3312
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَعْظَمُ ؟ قَالَ : " أَنْ تَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِيحٌ شَحِيحٌ تَخْشَى الْفَقْرَ وَتَأْمَلُ الْغِنَى ، وَلا تُمْهِلْ حَتَّى إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ ، قُلْتَ : لِفُلانٍ كَذَا وَلِفُلانٍ كَذَا ، أَلا وَقَدْ كَانَ لِفُلانٍ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم! کون سا صدقہ زیادہ بڑا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کہ تم ایسی حالت میں صدقہ کرو کہ تم تندرست بھی ہو تمہیں (اپنے مال کے ساتھ) محبت بھی ہو اور تمہیں (مال خرچ کرنے کے نتیجے میں) غربت کا اندیشہ بھی ہو اور تمہیں خوشحال رہنے کی خواہش بھی ہو تم (صدقہ کرنے کو) اتنا مؤخر نہ کر دینا کہ جان حلق تک پہنچ جائے اور پھر تم یہ کہو کہ فلاں کو اتنا ملے فلاں کو اتنا ملے، حالانکہ وہ ویسے ہی فلاں کو مل جانا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3312
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2551): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3301»