کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صدقۂ فطر کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ صدقہ فطر لوگوں کے مصلیٰ کی طرف جانے سے پہلے دیا جائے
حدیث نمبر: 3299
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ فَارِسٍ الدَّلالُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِإِخْرَاجِ زَكَاةِ الْفِطْرِ أَنْ تُؤَدَّى قَبْلَ خُرُوجِ النَّاسِ ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ يُؤَدِّيهَا قَبْلَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعَجِّلُ الزَّكَاةَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ، وَيَسْتَقْبِلُ رَمَضَانَ بِصِيَامِ يَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ فطر کی ادائیگی کا حکم دیا ہے کہ اسے لوگوں کے (نماز عید کے لیے) نکلنے سے پہلے ادا کر دیا جائے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خود بھی (عید کے) ایک یا دو دن پہلے اسے ادا کر دیتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:): سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صدقہ فطر کو عیدالفطر سے ایک یا دو دن پہلے ادا کر دیا کرتے تھے اور وہ رمضان شروع ہونے سے ایک یا دو دن پہلے روزے رکھنے شروع کر دیتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3299
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1428): ق دون فعل ابن عمر، وله (خ) معناه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3288»