کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: زکاۃ کے مصارف کا بیان - اس بات کا بیان کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی حسن کے منہ میں ڈالی اور اس سے کھجور نکالی جب اس نے اسے چبا لیا
حدیث نمبر: 3295
سَمِعْتُ أَبَا خَلِيفَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ بَكْرِ بْنِ الرَّبِيعِ بْنِ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ مُسْلِمٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ زِيَادٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : أَتَى أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَأَخَذَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ تَمْرَةً فَلاكَهَا ، فَأَدْخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَيْهِ فِي فِيهِ ، فَأَخْرَجَهَا ، وَقَالَ : " كِخْ أَيْ بُنَيَّ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا لا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں زکوۃ کی کھجوریں آئیں سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے ان میں سے ایک کھجور لی اور منہ میں ڈال لی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیاں ان کے منہ میں ڈال کر اسے باہر نکالا اور فرمایا: اے میرے بیٹے اسے تھوک دو کیا تم یہ نہیں جانتے کہ ہمارے لیے زکوۃ حلال نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 3296
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ ، بِفَمِ الصُّلْحِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمُرُّ بِالتَّمْرَةِ سَاقِطَةً ، فَلا يَمْنَعُهُ مِنْ أَخْذِهَا إِلا مَخَافَةُ الصَّدَقَةِ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات کسی گری ہوئی کھجور کے پاس سے گزرتے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے اس اندیشے کے تحت نہیں اٹھاتے تھے کہ کہیں وہ زکوۃ کی نہ ہو۔