کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: زکاۃ کے مصارف کا بیان - اس خبر کا ذکر جو دولت کی مدت کی تعیین کی نفی کرتا ہے
حدیث نمبر: 3291
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ ، عَنْ كِنَانَةَ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، فَاسْتَعَانَ بِهِ نَفَرٌ مِنْ قَوْمِهِ فِي نِكَاحِ رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ ، فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَهُمْ شَيْئًا ، فَانْطَلَقُوا مِنْ عِنْدِهِ ، قَالَ كِنَانَةُ : فَقُلْتُ لَهُ : أَنْتَ سَيِّدُ قَوْمِكَ ، وَأَتَوْكَ يَسْأَلُونَكَ ، فَلَمْ تُعْطِهِمْ شَيْئًا ، قَالَ : أَمَّا فِي هَذَا ، فَلا أُعْطِي شَيْئًا ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ ذَلِكَ ، تَحَمَّلْتُ بِحَمَالَةٍ فِي قَوْمِي ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ يُعِينَنِي ، فَقَالَ : " بَلْ نَحْمِلُهَا عَنْكَ يَا قَبِيصَةُ ، وَنُؤَدِّيهَا إِلَيْهِمْ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ " ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّ الْمَسْأَلَةَ لا تَحِلُّ إِلا لِثَلاثَةٍ : رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَةٍ ، فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ حَتَّى يُؤَدِّيَهَا ، أَوْ رَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَهُ ، فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ، أَوْ رَجُلٍ أَصَابَتْهُ فَاقَةٌ ، فَشَهِدَ لَهُ ثَلاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ أَنْ حَلَّتْ لَهُ الْمَسْأَلَةُ ، فَقَدْ حَلَّتْ لَهُ حَتَّى يُصِيبَ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ ، فَالْمسْأَلَةُ فِيمَا سِوَى ذَلِكَ سُحْتٌ " .
کنانہ عدوی بیان کرتے ہیں: میں سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ان کی قوم کے کچھ افراد نے اپنی قوم کے ایک شخص کی شادی کے بارے میں ان سے مدد مانگی، تو انہوں نے ان لوگوں کو کچھ دینے سے انکار کر دیا وہ لوگ ان کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے۔ کنانہ بیان کرتے ہیں: میں نے ان سے کہا: آپ اپنی قوم کے سردار ہیں وہ لوگ آپ کے پاس (مدد) مانگنے کے لیے آئے تھے آپ نے انہیں کچھ بھی نہیں دیا، تو انہوں نے فرمایا: جہاں تک اس معاملے کا تعلق ہے، تو میں کچھ بھی نہیں دوں گا میں تمہیں اس کے بارے میں بتاتا ہوں ایک مرتبہ میں نے اپنی قوم میں سے کسی کی کوئی ادائیگی اپنے ذمے لے لی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میری مدد کریں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے قبیصہ تمہاری ادائیگی ہم اپنے ذمے لیتے ہیں اور صدقے کے اونٹوں میں سے انہیں ادائیگی کر دیں گے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (کسی سے کچھ) مانگنا صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہے ایک وہ شخص جو کوئی ادائیگی اپنے ذمے لے اس کے لیے مانگنا جائز ہے، یہاں تک کہ وہ اس ادائیگی کو ادا کر دے ایک وہ شخص جسے کوئی مصیبت لاحق ہوئی ہو، جس کے نتیجے میں اس کی پیداوار ضائع ہو جائے اس کے لیے مانگنا جائز ہے، یہاں تک کہ وہ اپنی ضروریات کی تکمیل کر پائے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) ایک وہ شخص جسے فاقہ لاحق ہو اور اس کی قوم کے تین سمجھدار لوگ اس کے بارے میں گواہی دیں کہ اس کے لیے مانگنا جائز ہو گیا ہے، تو اس کے لیے مانگنا جائز ہو گا، یہاں تک کہ وہ اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کرے، اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے۔