کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: عشر کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ آدمی اپنے ہر باغ سے ایک خوشہ مسجد میں مساکین کے لیے لٹکائے
حدیث نمبر: 3288
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ الصُّوفِيُّ ، بِبَغْدَادَ ، حَدَّثَنَا يَحِيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرِيَمَ ، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ، أخيه ، كلاهما عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ لِلْمَسْجِدِ مِنْ كُلِّ حَائِطٍ بِقَنَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : عَبْدُ اللَّهِ هَذَا : هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنْ عُبَّادِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، قَدْ غَلَبَ عَلَيْهِ التَّقَشُّفُ وَالْعِبَادَةُ حَتَّى كَانَ يَقْلِبُ الأَخْبَارَ ، وَلا يَعْلَمُ ، فَلَمَّا كَثُرَ ذَلِكَ مِنْهُ فِي أَخْبَارِهِ ، بَطَلَ الاحْتِجَاجُ بِآثَارِهِ ، وَاعْتِمَادُنَا فِي هَذَا الْخَبَرِ عَلَى أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ دُونَهُ .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے بارے میں یہ حکم دیا تھا کہ ہر باغ میں سے (پھل کا) ایک خوشہ اس میں رکھا جائے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ رحمۃ علیہ فرماتے ہیں:): عبداللہ نامی یہ راوی عبداللہ بن عمر بن حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب ہیں یہ اہل مدینہ کے عبادت گزار لوگوں میں سے ایک ہیں۔ ان پر دنیا سے بے رغبتی اور عبادت کا رنگ غالب تھا۔ اس لیے یہ روایات کو الٹ پلٹ دیا کرتے تھے اور انہیں اس بات کا پتہ نہیں چلتا تھا تو جب ان کی نقل کردہ روایات میں اس نوعیت کی غلطیوں کی کثرت سامنے آئی تو ان کی نقل کردہ روایات سے استدلال کرنا باطل ہو جائے گا تو اس روایت کے بارے میں ہمارا اعتماد ان کے بھائی عبیداللہ کی نقل کردہ روایت پر ہو گا ان پر نہیں ہو گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3288
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1465). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات ورجاله رجال الصحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3277»