کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: عشر کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ صاع پانچ رطل اور ایک تہائی ہے جیسا کہ ہمارے حجازی اور مصری ائمہ نے کہا
حدیث نمبر: 3284
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحِيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ ، قَالَ ابْنُ خُزَيْمَةَ ، وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرُوَانَ الْعُثْمَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، صَاعُنَا أَصْغَرُ الصِّيعَانِ ، وَمُدُّنَا أَصْغَرُ الأَمْدَادِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا ، وَبَارِكْ لَنَا فِي قَلِيلِنَا وَكَثِيرِنَا ، وَاجْعَلْ لَنَا مَعَ الْبَرَكَةِ بَرَكَتَيْنِ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : فِي تَرْكِ إِنْكَارِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ قَالُوا : صَاعُنَا أَصْغَرُ الصِّيعَانِ بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّ صَاعَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ أَصْغَرُ الصِّيعَانِ ، وَلَمْ يَخْتَلِفْ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ لَدُنِ الصَّحَابَةِ إِلَى يَوْمِنَا هَذَا فِي الصَّاعِ وَقَدْرِهِ إِلا مَا قَالَهُ الْحِجَازِيُّونَ وَالْعِرَاقِيُّونَ ، فَزَعَمَ الْحِجَازِيُّونَ أَنَّ الصَّاعَ خَمْسَةُ أَرْطَالٍ وَثُلُثٌ ، وَقَالَ الْعِرَاقِيُّونَ : الصَّاعُ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ ، فَلَمَّا لَمْ نَجِدْ بَيْنَ أَهْلِ الْعِلْمِ خِلافًا فِي قَدْرِ الصَّاعِ إِلا مَا وَصَفْنَا ، صَحَّ أَنَّ صَاعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَمْسَةَ أَرْطَالٍ وَثُلُثًا ، إِذْ هُوَ أَصْغَرُ الصِّيعَانِ ، وَبَطَلَ قَوْلُ مَنْ زَعَمَ أَنَّ الصَّاعَ ثَمَانِيَةُ أَرْطَالٍ مِنْ غَيْرِ دَلِيلٍ ثَبَتَ لَهُ عَلَى صِحَّتِهِ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارا صاع سب سے چھوٹا صاع ہے اور ہمارا مد سب سے چھوٹا مد ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ ” اے اللہ! تو ہمارے لیے ہمارے صاع میں برکت رکھ دے ہمارے لیے ہمارے تھوڑے اور زیادہ میں برکت رکھ دے اور ہمارے لیے اس برکت کے ہمراہ مزید دو برکتیں رکھ دے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان حضرات کے الفاظ پر انکار نہ کرنا جب انہوں نے یہ کہا: ” ہمارا صاع سب سے چھوٹا صاع ہے “ تو یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ اہل مدینہ کا صاع تمام صاعوں میں سب سے چھوٹا ہے، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے سے لے کر ہمارے اس دور تک اہل علم میں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے، جو اس صاع کے بارے میں ہے اور اس کی مقدار کے بارے میں ہے البتہ اہل حجاز اور اہل عراق کی رائے مختلف ہے۔ اہل حجاز یہ کہتے ہیں ایک صاع پانچ رطل اور ایک تہائی رطل کا ہوتا ہے جبکہ اہل عراق یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے، تو ہمیں اہل علم کے درمیان صاع کی مقدار کے بارے میں کوئی اختلاف پتہ نہیں چلتا۔ ماسوائے اس کے جو ہم نے ذکر کیا ہے، تو یہ بات مستند طور پر ثابت ہو جائے گی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاع پانچ رطل اور ایک رطل کے ایک تہائی حصے کا تھا کیونکہ یہ سب سے چھوٹا صاع ہے اور اس شخص کا موقف غلط ثابت ہو جائے گا جو اس بات کا قائل ہے کہ ایک صاع آٹھ رطل کا ہوتا ہے اس نے کسی دلیل کے بغیر یہ بات بیان کی ہے جس کا مستند ہونا ثابت ہو۔