کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: زکاۃ کے فرض ہونے کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ امام صدقہ میں واجب عمر سے زیادہ لے سکتا ہے اگر مالکان کی نفوس اس سے راضی ہوں
حدیث نمبر: 3269
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ يَحِيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ : بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَدَقَةِ بَلِيَّ وَعُذْرَةَ ، فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ مِنْ بَلِيَّ ، لَهُ ثَلاثُونَ بَعِيرًا ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنَّ عَلَيْكَ فِي إِبِلِكَ هَذِهِ بِنْتَ مَخَاضٍ ، قَالَ : ذَاكَ مَا لَيْسَ فِيهِ ظَهْرٌ وَلا لَبَنٌ ، وَإِنِّي لأَكْرَهُ أَنْ أُقْرِضُ اللَّهَ شَرَّ مَالِي ، فَتَخَيَّرْهُ ، فَقَالُ لَهُ أُبَيُّ : مَا كُنْتُ لآخُذَ فَوْقَ مَا عَلَيْكَ ، وَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأْتِهِ ، فَأَتَاهُ ، فَقَالَ نَحُوًا مِمَّا قَالَ لأَبِيٍّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا مَا عَلَيْكَ ، فَإِنْ جِئْتَ بِفَوْقِهِ ، قَبِلْنَاهُ مِنْكَ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ نَاقَةٌ عَظِيمَةٌ سَمِينَةٌ ، فَمَنْ يَقْبِضُهَا ؟ فَأَمَرَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَقْبِضُهَا ، وَدَعَا لَهُ فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ ، قَالَ عُمَارَةُ : فَضَرَبَ الدَّهْرُ ضَرْبَةً ، فَوَلانِي مَرُوَانُ صَدَقَةَ بَلِيَّ وَعُذْرَةَ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ ، فَمَرَرْتُ بِهَذَا الرَّجُلِ ، فَصَدَقْتُ مَالَهُ ثَلاثِينَ حِقَّةً ، فِيهَا فَحْلُهَا عَلَى أَلْفٍ وَخَمْسِ مِائَةِ بَعِيرٍ ، قَالَ ابْنَ إِسْحَاقَ : قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ : مَا فَحْلُهَا ؟ قَالَ : فِي السُّنَّةِ إِذَا بَلَغَ صَدَقَةُ الرَّجُلِ ثَلاثُونَ حِقَّةً أُخِذَ مَعَهَا فَحْلُهَا .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلی اور عذرہ قبیلے سے زکوۃ وصول کرنے کے لیے بھیجا میرا گزر بلی قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے پاس سے ہوا جس کے پاس تمہیں تیس (30) اونٹ تھے میں نے اس سے کہا: تمہارے ان اونٹوں میں تم پر بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہو گی اس نے کہا: یہ، تو ایک ایسا جانور ہے، جس پر سواری بھی نہیں کی جا سکتی اور یہ دودھ بھی نہیں دیتا مجھے یہ بات پسند نہیں ہے میںاللہ تعالیٰ کو اپنا برا مال پیش کروں تمہیں اس بارے میں اختیار ہے (کہ تم کوئی دوسرا جانور لے لو) سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: میں تم سے اس سے زیادہ وصولی نہیں کر سکتا جو تم پر لازم ہے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں تم ان کی خدمت میں چلے جاؤ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے وہی بات کہی جو اس نے سیدنا ابی رضی اللہ عنہ سے کہی تھی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ وہ چیز ہے، جو تم پر لازم ہے، اگر تم اس سے زیادہ لے آتے ہو، تو ہم اسے تمہاری طرف سے قبول کر لیں گے اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ ایک موٹی تازی اونٹنی ہے کون اسے قبضے میں لے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت کی، تو ایک شخص نے اسے قبضے میں لے لیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے مال میں اس کے لیے برکت کے لیے دعا کی۔ عمارہ نامی راوی کہتے ہیں: اس کے بعد ایک طویل عرصہ گزر گیا مروان (جو مدینہ منورہ کا گورنر تھا) اس نے مجھے بلی اور عذرہ قبیلے سے زکوۃ وصول کرنے کے لئے بھیجا یہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت کی بات ہے میرا گزر اس شخص کے پاس سے ہوا، تو میرے حساب سے اس کے مال کی زکوۃ تیس (30) حقے بنتی تھی جس میں ایک نر جانور بھی ہو اور اس کے اونٹوں کی تعداد ایک ہزار پانچ سو تھی۔ ابن اسحاق کہتے ہیں: میں نے عبداللہ بن ابوبکر نامی راوی سے دریافت کیا: نر جانور ہونے سے مراد کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: سنت یہ ہے کہ جب کسی شخص کی زکوۃ تیس (30) حقہ تک پہنچ جائے، تو اس کے ہمراہ ایک نر جانور بھی لیا جائے گا۔