کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: زکاۃ کے فرض ہونے کا بیان - اس بات سے منع کرنے کا ذکر کہ زکوٰۃ لینے والا مالکان کی مویشیوں کو ان کے پانی سے ہٹا کر اس جگہ لے جائے جہاں وہ ان سے صدقہ لینا چاہتا ہے
حدیث نمبر: 3267
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا جَلَبَ ، وَلا جَنَبَ ، وَلا شِغَارَ ، وَمَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً ، فَلَيْسَ مِنَّا " .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جلب، جنب، شغار کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور جو شخص اچک کر کوئی چیز لیتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3267
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (2324). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3256»