کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: زکاۃ کے فرض ہونے کا بیان - چوپایوں میں واجب صدقہ کی تفصیل کا ذکر
حدیث نمبر: 3266
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْبُجَيْرِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، بِبُسْتَ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ لَمَا اسْتُخْلِفَ كَتَبَ لَهُ حِينَ وَجَّهَهُ إِلَى الِيَمَنِ هَذَا الْكِتَابَ " بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا رَسُولَهُ ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلِيُعْطِهَا ، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا ، فَلا يُعْطِهَا ، فِي أَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الإِبِلِ فَمَا دُونَهَا : الْغَنَمُ ، فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ إِلَى خَمْسٍ وَثَلاثِينَ ، فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ ، فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلاثِينَ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ ، فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ إِلَى سِتِّينَ ، فَفِيهَا حِقَّةٌ طَروقَةُ الْجَمَلِ ، فَإِذَا بَلَغَتْ وَاحِدَةً وَسِتِّينَ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ ، فَفِيهَا جَذَعَةٌ ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ إِلَى تِسْعِينَ ، فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ ، وَإِنَّ مَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ مِنَ الإِبِلِ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ ، وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ ، وَيَجْعَلُ مَعَهَا شَاتَيْنِ ، أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْجَذَعَةُ ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ الْحِقَّةُ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا ابْنَةُ لَبُونٍ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ، وَيُعْطِي شَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلا حِقَّةٌ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ الْحِقَّةُ ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ ، وَيُعْطِي مَعَهَا عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ بَلَغَتْ صَدَقَتُهُ ابْنَةَ مَخَاضٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ ، وَعِنْدَهُ ابْنَةُ لَبُونٍ ، فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ ابْنَةُ لَبُونٍ ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَّدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ ابْنَةُ مَخَاضٍ ، وَعِنْدَهُ ابْنُ لَبُونٍ ، فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ إِلا أَرْبَعَةٌ مِنَ الإِبِلِ ، فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا مِنَ الإِبِلِ ، فَفِيهَا شَاةٌ ، وَصَدَقَةُ الْغَنَمِ فِي كُلِّ سَائِمَتِهَا إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ ، شَاةٌ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِئَةٍ ، إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ ، فَفِيهَا شَاتَانِ ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى الْمِئَتَيْنِ إِلَى ثَلاثِ مِائَةٍ ، فَفِيهَا ثَلاثُ شِياه ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلاثِ مِئَةٍ ، فَفِي كُلِّ مِئَةٍ شَاةٌ ، وَلا يَخْرُجُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ ، وَلا ذَاتُ عُوَارٍ ، وَلا تَيْسٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَّدِّقُ ، وَلا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ ، وَلا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشِيَةَ الصَّدَقَةِ ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ ، فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بينهما بِالسَّوِيَّةِ ، وَإِذَا كَانَتْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ نَاقِصَةً مِنْ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةً وَاحِدَةً ، فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا ، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ ، فَإِذَ لَمْ يَكُنْ مَالٌ إِلا تِسْعِينَ وَمِئَةً ، فَلَيْسَ فِيهَا صَدَقَةٌ إِلا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا گیا، تو انہوں نے جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو انہوں نے انہیں یہ خط لکھ کر بھیجا۔ ”اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ زکوۃ کی فرضیت کا وہ حکم نامہ ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر فرض قرار دی تھی جس کے بارے میںاللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا تھا مسلمانوں میں سے جس کسی سے اس کے مطابق مطالبہ کیا جائے، تو وہ ادائیگی کرے گا اور جس سے اس سے زیادہ کا مطالبہ کیا جائے، تو وہ ادائیگی نہیں کرے گا چوبیس (24) یا اس سے کم اونٹوں میں سے ہر پانچ اونٹوں میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہے جب ان کی تعداد پچیس (25) ہو جائے، تو 35 تک میں ایک بنت مخاض کی ادائیگی لازم ہے، اگر بنت مخاض نہ ہو، تو ایک ابن لبون مذکر کی ادائیگی لازم ہے جب ان کی تعداد 36 سے لے کر 45 تک ہو تو ان میں ایک بنت لبون کی ادائیگی لازم ہے جب ان کی تعداد 46 سے لے کر 60 تک ہو، تو اس میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہے، جسے جفتی کے لیے دیا جا سکے جب اس کی تعداد 61 سے لے کر 75 تک ہو، تو اس میں جزعہ کی ادائیگی لازم ہے جب ان کی تعداد 76 سے لے کر 90 تک ہو، تو اس میں دو بنت لبون کی ادائیگی لازم ہے جب ان کی تعداد کی 91 سے لے کر 120 تک ہو، تو اس میں دو حقہ کی ادائیگی لازم ہے جنہیں جفتی کے لیے دیا جا سکے جب ان کی تعداد 120 سے زیادہ ہو جائے، تو ہر 40 میں ایک بنت لبون کی اور ہر 50 میں ایک حقہ کی ادائیگی لازم ہو گی، جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس پر زکوۃ کے طور پر جزعہ کی ادائیگی لازم ہو اور اس کے پاس جزعہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس حقہ ہو، تو اس سے حقہ وصول کر لیا جائے گا اور وہ شخص اس کے ہمراہ دو بکریاں یا بیس (20) درہم دے گا اور جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس پر حقہ کی ادائیگی لازم ہو اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس جزعہ ہو اس سے جزیہ وصول کر لیا جائے گا اور زکوۃ وصول کرنے والا شخص اسے یا، تو بیس (20) درہم دے گا یا دو بکریاں دے گا اور جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس پر حقہ کی ادائیگی لازم ہو، لیکن اس کے پاس حقہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس بنت لبون ہو، تو اس سے بنت لبون کو وصول کیا جائے گا اور وہ شخص دو بکریاں یا بیس (20) درہم دے گا اور جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ زکوۃ کے طور پر بنت لبون کی ادائیگی لازم ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو اس کے پاس حقہ ہو، تو اس سے حقہ کو وصول کر لیا جائے گا اور زکوۃ وصول کرنے والا اسے بیس (20) درہم یا دو بکریاں دے گا، جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان کی زکوۃ بنت لبون بنتی ہو اس کے پاس بنت لبون نہ ہو، تو اس سے بنت مخاض کو قبول کیا جائے گا اور وہ شخص اس کے ہمراہ بیس (20) درہم یا دو بکریاں دے گا، جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ اس کی زکوۃ ایک بنت مخاض بنتی ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو اس کے پاس بنت لبون ہو، تو اس سے بنت لبون کو قبول کیا جائے گا اور زکوۃ لینے والا شخص اسے بیس درہم یا دو بکریاں ادا کرے گا، جس شخص کے پاس بنت مخاض نہ ہو بلکہ اس کے پاس بنت لبون ہو، تو اس سے وہی وصول کیا جائے گا اور اس کے ہمراہ کوئی چیز نہیں لی جائے گی اور جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں، تو ان میں زکوۃ لازم نہیں ہوتی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے (تو کوئی ادائیگی کر سکتا ہے) اونٹوں کی تعداد پانچ ہو، تو ان میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی اور سائمہ بکریوں میں چالیس سے لے کر ایک سو بیس تک میں ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی جب ایک سو بیس (120) سے زیادہ ہوں، تو دو سو تک میں دو بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی اگر دو سو سے زیادہ ہوں، تو تین سو تک میں تین بکریوں کی ادائیگی لازم ہو گی اگر تین سو سے زیادہ بکریاں ہوں، تو ہر ایک سو میں سے ایک بکری کی ادائیگی لازم ہو گی زکوۃ میں بوڑھے، کانے اور کمزور جانور کو وصول نہیں کیا جائے گا، البتہ اگر زکوۃ وصول کرنے والا چاہئے، تو ایسا کر سکتا ہے اور (زکوۃ سے بچنے کے لیے) متفرق مال کو اکٹھا نہیں کیا جائے گا اور اکٹھے مال کو متفرق نہیں کیا جائے گا اور جو مال دو آدمیوں کی مشترکہ ملکیت ہو، تو ان دونوں سے برابری کی بنیاد پر وصولی کی جائے گی اور جب کسی شخص کی سائمہ بکریاں چالیس سے کم ہوں خواہ ایک بھی کم ہو، تو اس میں زکوۃ لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر ان کا مالک چاہے تو (کوئی ادائیگی کر سکتا ہے) چاندی میں عشر کے چوتھائی حصے (یعنی اڑھائی فیصد) کی ادائیگی بھی لازم ہو گی اگر مال صرف ایک سو نوے ہو، تو اس میں زکوۃ لازم نہیں ہو گی، البتہ اگر اس کا مالک چاہئے، تو ادائیگی کر سکتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3266
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (3/ 265 - 266). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3255»