کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس خبر کا ذکر جو واضح کرتا ہے کہ وہ خزانہ جو اس کے مالک کو آخرت میں اللہ جل وعلا کی سزا کا مستوجب بناتا ہے وہ مال ہے جس کی زکوٰۃ ادا نہ کی گئی، چاہے وہ ظاہر ہو، نہ کہ وہ جس کی زکوٰۃ ادا کی گئی، چاہے وہ دفن ہو
حدیث نمبر: 3262
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَمِّهِ أَبِي سُهَيْلِ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ يُسْمَعُ دَوِيُّ صَوْتِهِ وَلا يُفْقَهُ مَا يَقُولُ ، حَتَّى دَنَا ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ الإِسْلامِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الِيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ " ، قَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : " لا إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ " ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ ؟ قَالَ : " لا إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " ، قَالَ : وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ ، فَقَالَ : هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا ؟ قَالَ : " لا إِلا أَنْ تَطَوَّعَ " ، قَالَ : فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ : وَاللَّهِ لا أَزِيدُ عَلَى هَذَا وَلا أَنْقُصُ مِنْهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ " .
سیدنا طلحہ بن عبیدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نجد سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنائی دیتی تھی، لیکن وہ کیا کہہ رہا ہے یہ سمجھ نہیں آتا تھا جب وہ قریب ہوا، تو پتہ چلا کہ وہ اسلام کے بارے میں دریافت کر رہا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دن اور رات میں پانچ نمازیں (فرض ہیں) اس نے دریافت کیا، کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر (کوئی نماز ادا کرنا) فرض ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، البتہ اگر تم نوافل ادا کرو (تو یہ بہتر ہیں) راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رمضان کے مہینے کے روزے رکھنا (فرض ہے) اس نے دریافت کیا: کیا ان کے علاوہ (کوئی اور روزے بھی) مجھ پر لازم ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، البتہ اگر تم نفل (روزے رکھو، تو یہ بہتر ہیں)۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سامنے زکوۃ کا تذکرہ کیا، تو اس نے دریافت کیا: اس کے علاوہ (کوئی ادائیگی) بھی مجھ پر لازم ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، البتہ اگر تم نفلی طور پر (صدقہ و خیرات کرو، تو یہ بہتر ہیں) راوی کہتے ہیں: پھر وہ شخص چلا گیا وہ یہ کہہ رہا تھا اللہ کی قسم! میں اس میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا اور اس میں کوئی کمی بھی نہیں کروں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اس نے سچ کہا: تو یہ کامیاب ہو گیا۔