کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ ہمارے ذکر کردہ عقوبات اس کے لیے ہیں جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہ کرے، نہ کہ اس کے لیے جو زکوٰۃ ادا کرے
حدیث نمبر: 3261
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قال : حدَّثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي الْمَالُ الَّذِي لا يُعْطَى فِيهِ الْحَقُّ تَطَأُ الإِبِلُ سَيِّدَهَا بِأَخْفَافِهَا ، وَيَأْتِي الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ فَتَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلافِهَا ، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ ، فَيَلْقَى صَاحِبَهُ ، فَيَفِرُّ مِنْهُ صَاحِبُهُ ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ وَيَفِرُّ مِنْهُ ، وَيَقُولُ : مَا لِي وَلَكَ ؟ فَيَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ ، فَيَلْقَمُ يَدَهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” وہ مال آئے گا، جس کا حق (یعنی زکوۃ) نہیں ادا کیا گیا ہو گا اونٹ اپنے مالک کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندے گا۔ گائے اور بکریاں آئیں گی اپنے مالک کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندیں گی اور سینگوں کے ذریعے ماریں گی۔ خزانہ گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنے مالک کے پیچھے جائے گا اس کا مالک اس سے بھاگے گا وہ پھر اس کے سامنے آ جائے گا: پھر اس سے بھاگے گا اور یہ کہے گا میرا تمہارے ساتھ کیا واسطہ ہے، تو وہ کہے گا میں تمہارا خزانہ ہوں پھر وہ اس کے ہاتھ کو چبا لے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3261
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (3243). تنبيه!! رقم (3243) = (3254) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3250»