کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ قیامت کے دن جانوروں والے اپنے مالکان کو روندتے ہیں اگر انہوں نے ان سے اللہ کا حق نہ نکالا
حدیث نمبر: 3255
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدِينِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ لا يَفْعَلُ فِيهَا خَيْرًا إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَسْتَنُّ عَلَيْهِ بِقَوَائِمِهَا وَأَخْفَافِهَا ، وَلا صَاحِبِ بَقَرٍ إِلا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرَ مَا كَانَتْ ، وَأُقْعِدَ لَهَا بِقَاعٍ قَرْقَرٍ تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَتَطَؤُهُ بِأَظْلافِهَا ، لَيْسَ فِيهَا جَمَّاءُ وَلا مُكَسَّرٌ قَرْنُهَا ، وَلا صَاحِبِ كَنْزٍ لا يَفْعَلُ فِيهِ حَقَّهُ إِلا جَاءَ كَنْزُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ يَتْبَعُهُ فَاغِرًا فَاهُ ، فَإِذَا أَتَاهُ فَرَّ مِنْهُ ، فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ : كَنْزُكَ الَّذِي خَبَّأْتَهُ ، فَإِذَا رَأَى أَنْ لا بُدُّ لَهُ مِنْهُ ، سَلَكَ يَدَهُ فِي فِيهِ ، فَيَقْضَمُهَا قَضْمَ الْفَحْلِ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” اونٹوں کا جو بھی مالک ان کے بارے میں بھلائی نہیں کرے گا (یعنی ان کی زکوۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ قیامت کے دن پہلے سے زیادہ (صحت مند ہو کر) آئیں گے اس شخص کو ان کے سامنے ایک کھلے میدان میں بٹھا دیا جائے گا وہ اپنی ٹانگوں اور پاؤں کے ذریعے اسے ماریں گے۔ گائے کا مالک (جو ان کی زکوۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ گائے قیامت کے دن پہلے سے زیادہ (صحت مند ہو کر) آئیں گی اس شخص کو ان کے سامنے ایک کھلے میدان میں بٹھا دیا جائے گا وہ اپنے سینگوں کے ذریعے اسے ماریں گی اور پاؤں کے ذریعے اسے روندیں گی ان میں کوئی ایسی گائے نہیں ہو گی جو بغیر سینگ کے ہو یا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو۔ خزانے کا جو بھی مالک (اس کی زکوۃ ادا نہیں کرے گا)، تو وہ خزانہ قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنا منہ کھول کر اس کے پیچھے جائے گا، جب وہ اس کے قریب آئے گا، تو یہ اس سے بھاگے گا، تو اس کا پروردگار اسے پکارے گا: یہ وہ تمہارا خزانہ ہے، جسے تم نے سنبھال کے رکھا ہوا تھا جب وہ شخص یہ دیکھے گا کہ اب وہ اس سے نہیں بچ سکتا تو وہ اپنا ہاتھ اس کے منہ کی طرف بڑھائے گا، تو وہ سانپ اس کے ہاتھ کو یوں چبا لے گا، جس طرح اونٹ کوئی چیز چباتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3255
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (558): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3244»