کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: زکاۃ نہ دینے والے کے لیے وعید کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ قیامت کے دن اسے کیا عذاب دیا جائے گا جو اپنے مال سے اللہ کا حق نہ نکالے
حدیث نمبر: 3254
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَأْتِي الْمَالُ الَّذِي لَمْ يُعْطَ الْحَقُّ مِنْهَا ، فَتَطَأُ الإِبِلُ سَيِّدَهَا بِأَخْفَافِهَا ، وَيَأْتِي الْبَقَرُ وَالْغَنَمُ فَتَطَأُ صَاحِبَهَا بِأَظْلافِهَا ، وَتَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا ، وَيَأْتِي الْكَنْزُ شُجَاعًا أَقْرَعَ ، فَيَلْقَى صَاحِبَهُ ، فَيَفِرُّ مِنْهُ ، ثُمَّ يَسْتَقْبِلُهُ وَيَفِرُّ مِنْهُ ، فَيَقُولُ : مَا لِي وَمَا لَكَ ؟ ! فَيَقُولُ : أَنَا كَنْزُكَ أَنَا كَنْزُكَ ، فَيتَلَقَّاهُ صَاحِبُهُ بِيَدِهِ فَيَلْقَمُ يَدَهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” وہ مال (قیامت کے دن) آئے گا، جس کی زکوۃ ادا نہیں کی گئی ہو گی، تو (اس میں سے) اونٹ اپنے آقا کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندے گا، گائے اور بکریاں آئیں گی اپنے مالک کو اپنے پاؤں کے ذریعے روندیں گی اور اپنے سینگوں کے ذریعے ماریں گی۔ خزانہ ایک گنجے سانپ کی شکل میں آئے گا اور اپنے مالک کے پیچھے جائے گا وہ مالک اس سے بھاگے گا پھر وہ اس کے سامنے آ جائے گا پھر وہ اس سے بھاگے گا، تو وہ کہے گا میرا تمہارا کیا واسطہ ہے، تو وہ خزانہ کہے گا میں تمہارا خزانہ ہوں میں تمہارا خزانہ ہوں پھر اس کا مالک اپنا ہاتھ اس کی طرف کرے گا، تو وہ اس کے ہاتھ کو چبا جائے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3254
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (1462): ق نحوه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3243»