کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: زکاۃ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جنت اس کے لیے لازم ہوتی ہے جو زکوٰۃ ادا کرے، نماز قائم کرے اور صلہ رحمی کرے
حدیث نمبر: 3245
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : حَدِّثْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اعْبُدِ اللَّهَ لا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ ذَرْهَا " ، يَعْنِي النَّاقَةَ .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اللہ کی عبادت کرو تم کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ تم نماز قائم کرو، زکوۃ ادا کرو، صلہ حمی کرو اور اب اسے چھوڑ دو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ اونٹنی کو چھوڑ دو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3245
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الترغيب» (3/ 224): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3234»