کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: حرص اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ آدمی اپنے پیچھے اپنے مال سے کیا چھوڑتا ہے
حدیث نمبر: 3244
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ الْعَبْدُ مَالِي ، وَإِنَّمَا لَهُ مِنْ مَالِهِ ثَلاثَةٌ : مَا أَكَلَ فَأَفْنَى ، أَوْ مَا أَعْطَى فَأَبْقَى ، أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَى ، وَمَا سِوَى ذَلِكَ ، فَهُوَ ذَاهِبٌ وَتَارِكُهُ لِلنَّاسِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بندہ یہ کہتا ہے یہ میرا مال ہے، حالانکہ اس کے مال سے اس کو تین چیزیں ملتی ہیں وہ چیز جسے وہ کھا کر فنا کر دے اور جسے (اللہ کی راہ میں) دے کر باقی رکھے اور جسے پہن کر پرانا کر دے اس کے علاوہ جو بھی ہے وہ رخصت ہونے والا ہے، جسے وہ لوگوں کے لیے چھوڑ جائے گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3244
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (8/ 210). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3233»