کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: حرص اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "اگر ابن آدم کے پاس دو وادیاں سونے کی ہوں تو وہ تیسری مانگتا" سے مراد ہے
حدیث نمبر: 3237
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بنِ الأَصَمِّ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عُمَرَ يَسْأَلُهُ ، فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى رَأْسِهِ مَرَّةً وَإِلَى رِجْلَيْهِ أُخْرَى لِمَا يَرَى بِهِ مِنَ الْبُؤْسِ ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : كَمْ مَالُكَ ؟ قَالَ : أَرْبَعُونَ مِنَ الإِبِلِ ، قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَقُلْتُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، " لَوْ كَانَ لابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ ، لابْتَغَى إِلَيْهِمَا الثَّالِثَ ، وَلا يَمْلأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " قَالَ : فَقَالَ لِي عُمَرُ : مَا تَقُولُ ؟ قَالَ : قُلْتُ : هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ : فَقُمْ بِنَا إِلَيْهِ ، قَالَ : فَأَتَاهُ ، فَقَالَ : مَا يَقُولُ هَذَا ؟ قَالَ أُبَيٌّ : هَكَذَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کچھ مانگا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ اس کے سر کی طرف دیکھا اور دوسری مرتبہ اس کے پاؤں کی طرف دیکھا یعنی اس کی خستہ حالی کو ملاحظہ کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا: تمہارے پاس کتنا مال ہے اس نے جواب دیا: چالیس اونٹ ہیں۔ راوی کہتے ہیں: اس پر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ کہا: ہے، اگر آدمی کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں، تو وہ ان کے ساتھ تیسری کا آرزومند ہو گا آدمی کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہےاللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے دریافت کیا: تم کیا کہتے ہو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے جواب دیا: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے اسی طرح میرے سامنے بیان کیا تھا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میرے ساتھ اٹھ کر اس کی طرف چلو۔ راوی کہتے ہیں: پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور دریافت کیا: اس نے کیا بیان کیا ہے، تو سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے اسی طرح ارشاد فرمایا تھا۔