کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: حرص اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کا بیان کہ ابن آدم، سوائے ان کے جنہیں اللہ نے محفوظ رکھا، ان کا حکم ہمارے بیان کردہ دیگر اموال میں وہی ہے جو کھجور کے درخت کے بارے میں ذکر کیا
حدیث نمبر: 3234
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْذِرِ بْنِ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لَوْ أَنَّ لابْنِ آدَمَ وَادِيًا مَالا ، لأُحِبَّ أَنَّ لَهُ مِثْلَهُ ، وَلا يَمْلأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلا التُّرَابُ ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ " .
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” اگر آدمی کے پاس مال کی ایک وادی ہو، تو وہ اس بات کا آرزو مند ہو گا کہ اس کی مانند اسے اور مل جائے آدمی کے نفس کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہےاللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3234
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3223»