کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: حرص اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ اللہ جل وعلا نے ابن آدم میں اس دنیا پر حرص رکھا، چاہے وہ گندی اور فانی ہو
حدیث نمبر: 3231
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَطَاءً ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَوْ أَنَّ لابْنِ آدَمَ مِلْءَ وَادٍ مَالا ، لأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ مِثْلُهُ ، وَلا يَمْلأُ نَفْسَ ابْنِ آدَمَ إِلا التُّرَابُ ، وَاللَّهُ يَتُوبُ عَلَى مِنْ تَابَ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” اگر کسی آدمی کو مال سے بھری ہوئی وادی مل جائے، تو اس کی یہ خواہش ہو گی کہ اسے اتنی ہی اور مل جائے انسان کا پیٹ صرف مٹی بھرتی ہے اور جو شخص توبہ کرتا ہےاللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول کرتا ہے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3231
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الروض النضير» (332): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3220»