کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات کہی
حدیث نمبر: 3214
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبًا يَأْتِي عَلَيَّ ثَلاثٌ ، وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ غَيْرَ شَيْءٍ أَرْصُدُهُ فِي دَيْنٍ عَلَيَّ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس احد پہاڑ جتنا سونا ہو اور پھر تین دن گزرنے کے بعد ان میں سے ایک دینار بھی میرے پاس ہو، ماسوائے اس کے، جسے میں نے قرض کی ادائیگی کے لیے سنبھال کے رکھا ہو۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الزكاة / حدیث: 3214
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «فقه السيرة» (48)، «الصحيحة» (1028): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 3204»