کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض علماء کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ ابو سلمہ کی ہمارے بیان کردہ خبر کے مخالف ہے
حدیث نمبر: 3213
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، بِبُسْتَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ : دَخَلْتُ أَنَا وَعُرُوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَتْ : لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي مَرَضٍ لَهُ وَكَانَتْ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ أَوْ سَبْعَةٌ ، قَالَتْ : فَأَمَرَنِي أَنْ أُفَرِّقَهَا ، فَشَغَلَنِي وَجَعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللَّهُ ، قَالَتْ : ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا ، فَقُلْتُ : لا وَاللَّهِ قَدْ كَانَ شَغَلَنِي وَجَعُكَ ، قَالَتْ : فَدَعَا بِهَا فَوَضَعَهَا فِي كَفِّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عِنْدَهُ ؟ ! " .
ابوامامہ بن سہل بیان کرتے ہیں: میں اور عروہ بن زبیر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے فرمایا: کاش تم اس دن اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار تھے اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ یا شاید سات دینار میرے پاس موجود تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ہدایت کی کہ میں انہیں خرچ کر دوں، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی وجہ سے میں ایسا نہ کر سکی، یہاں تک کہاللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت بہتر کی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا: تو میں نے عرض کی: جی نہیں اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی وجہ سے میں انہیں خرچ نہیں کر سکی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منگوایا اور انہیں اپنی ہتھیلی پر رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کے نبی کا کیا گمان ہو گا اگر وہ ایسی حالت میں اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ یہ اس کے پاس ہو۔