کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ حلال سے مال جمع کرنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 3212
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيَانَ ، حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الُوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ : " يَا عَائِشَةُ ، مَا فَعَلْتِ الذَّهَبُ ؟ " ، قَالَتْ : قُلْتُ : هِيَ عِنْدِي ، قَالَ : " فَأْتِينِي بِهَا " ، وَهِيَ بَيْنَ السَّبْعَةِ وَالْخَمْسَةِ ، فَجِئْتُ ، فَوَضَعْتُهَا فِي كَفِّهِ ، ثُمَّ قَالَ : " مَا ظَنُّ مُحَمَّدٍ بِاللَّهِ لَوْ لَقِيَ اللَّهَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ ، أَنْفِقِيهَا " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جس بیماری کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! اس سونے کا کیا ہوا؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کی: وہ میرے پاس ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لے کر آؤ، وہ سات یا پانچ (اوقیہ) تھا میں اسے لے کر آئی میں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی پر رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: محمد کااللہ تعالیٰ کے بارے میں کیا گمان ہو گا اگر وہ ایسی حالت میںاللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ یہ (سونا) اس کے پاس ہو تم اسے خرچ کر دو۔