کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: حلال طریقے سے مال جمع کرنے اور اس سے متعلق امور کا بیان - اس بات کی اطلاع کہ حلال سے مال جمع کرنا جائز ہے اگر اس کا حق اللہ کو ادا کیا جائے
حدیث نمبر: 3211
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا عَمْرُو ، اشْدُدْ عَلَيْكَ سِلاحَكَ وَثِيَابَكَ " ، قَالَ : فَفَعَلْتُ ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ ، فَوَجَدْتُهُ يَتَوَضَّأُ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَصَعَّدَ فِيَّ النَّظَرَ وَصَوَّبَهُ ، قَالَ : " يَا عَمْرُو ، إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَبْعَثَكَ وَجْهًا ، فَيُسَلِّمُكَ اللَّهُ وَيُغْنِمَكَ ، وَأَزْغُبُ لَكَ مِنَ الْمَالِ زَغْبَةً صَالِحَةً " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أُسْلِمْ رَغْبَةً فِي الْمَالِ ، إِنَّمَا أَسْلَمْتُ رَغْبَةً فِي الْجِهَادِ وَالْكَيْنُونَةِ مَعَكَ ، قَالَ : " يَا عَمْرُو ، نِعِمَّا بِالْمَالِ الصَّالِحِ مَعَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ " .
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اے عمرو! تم اپنے ہتھیار اور کپڑوں کو اپنے اوپر باندھ لو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے ایسا ہی کیا پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور میرا نیچے سے لے کر اوپر تک جائزہ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمرو! میں تمہیں ایک مہم پر روانہ کرنا چاہتا ہوںاللہ تعالیٰ تمہیں سلامت رکھے اور تمہیں مال غنیمت عطا کرے اور میں تمہیں مال غنیمت میں سے حصہ بھی دوں گا۔ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے مال کی دلچسپی کی خاطر اسلام قبول نہیں کیا میں نے، تو جہاد میں حصہ لینے کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہنے کے لیے اسلام قبول کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمرو! وہ مال بہت اچھا ہے، جو پاک ہو اور نیک آدمی کے پاس ہو۔