کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: فصل: جنازے کے لیے کھڑے ہونے کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر اس حکم کا دیا گیا
حدیث نمبر: 3053
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَمُرُّ بِنَا جَنَازَةُ الْكَافِرِ أَفَنَقُومُ لَهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ فَقُومُوا لَهَا ، فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَقُومُونَ لَهَا ، إِنَّمَا تَقُومُونَ إِعْظَامًا لِلَّذِي يَقْبِضُ الأَرْوَاحَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے پاس سے بعض اوقات کسی کافر کا جنازہ بھی گزرتا ہے، تو کیا ہم اس کے لیے بھی کھڑے ہو جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں تم اس کے لیے کھڑے ہو جاؤ، کیونکہ تم اس میت کے لیے کھڑے نہیں ہو رہے بلکہ تم اس کے احترام میں کھڑے ہو رہے ہو، جو روح کو قبض کرتا ہے۔