کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ اگر آدمی دشمن سے ملے اور لڑائی میں مشغول ہو جائے تو وہ اپنی نماز مؤخر کر سکتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی جنگ سے فارغ ہو
حدیث نمبر: 2891
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْحَارِثِ الْمَرْوَزِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ : " شَغَلُونَا عَنِ صَلاةِ الْعَصْرِ ، مَلأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ نَارًا " ، قَالَ : وَلَمْ يُصَلِّهَا يَوْمَئِذٍ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ .
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں غزوہ خندق کے موقع پر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ان لوگوں نے ہمیں عصر کی نماز ادا کرنے نہیں دی۔اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو آگ سے بھر دے۔ راوی بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہ نماز اس دن سورج غروب ہونے تک ادا نہیں کر سکے تھے۔