کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس بات کا بیان کہ اگر آدمی ہمارے بیان کردہ حالت میں نماز مؤخر کرے تو اسے بعد میں صلوات ہمارے بیان کردہ صلاة الخوف کے طریقے کے علاوہ ادا کرنی چاہئیں
حدیث نمبر: 2890
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " حُبِسْنَا يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّى كَانَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ ، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ ، فَلَمَّا كُفِينَا الْقِتَالَ ، وَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا : وَكَفَى اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ وَكَانَ اللَّهُ قَوِيًّا عَزِيزًا سورة الأحزاب آية 25 أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلالا فَأَقَامَ الظُّهْرَ ، فَصَلَّى كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ، ثُمَّ أَقَامَ الْعَصْرَ ، فَصَلاهَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا ، ثُمَّ أَقَامَ الْمَغْرِبَ ، فَصَلَّى كَمَا كان يُصَلِّيهَا فِي وَقْتِهَا " .
عبدالرحمن بن ابوسعید خدری اپنے والد (سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ غزوہ خندق کے موقع پر ہم (لڑائی میں) مصروف رہے، یہاں تک کہ مغرب کے بعد کا وقت ہو گیا یہ جنگ کے بارے میں حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ جب جنگ کے حوالے سے ہماری کفایت ہو گئی (اس سے مراداللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:) ” جنگ میںاللہ تعالیٰ مومنین کے لیے کافی ہے۔اللہ تعالیٰ طاقت ور اور غالب ہے ۔“ (مغرب ہو جانے کے بعد) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے ظہر کے لیے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح ادا کی جس طرح آپ اسے اس کے وقت میں ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے عصر کے لیے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح ادا کی جس طرح آپ اسے اس کے وقت میں ادا کرتے تھے، پھر انہوں نے مغرب کے لیے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز اسی طرح ادا کی جس طرح آپ اس کے وقت میں ادا کرتے تھے۔