کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ جب خوف شدت اختیار کر جائے تو آدمی اپنی نماز مؤخر کر سکتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی لڑائی سے فارغ ہو
حدیث نمبر: 2889
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلاعِيُّ بِحِمْصَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : وَلا أَعْلَمُ إِلا أَنَّ أَبَا عَمْرٍو حَدَّثَنَا بِحَدِيثٍ ، حَدَّثَنَا بِهِ شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَغَيْرُهُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ جَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْخَنْدَقِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ وَذَلِكَ بَعْدَمَا أَفْطَرَ الصَّائِمُ قَالَ : " وَاللَّهِ مَا صَلَّيْنَاهَا بَعْدُ " ، قَالَ : فَنَزَلَ إِلَى بُطْحَانَ وَأَنَا مَعَهُ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَمَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ وَبَعْدَمَا أَفْطَرَ الصَّائِمُ .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں غزوہ خندق کے موقع پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! میں ابھی تک عصر کی نماز ادا نہیں کر سکا، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ یہ اس کے بعد کی بات ہے جب روزہ دار افطاری کر لیتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! ہم بھی ابھی تک یہ نماز ادا نہیں کر سکے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بطحان کے مقام پر رکے میں آپ کے ساتھ تھا۔ آپ نے وضو کیا، اور آپ نے سورج غروب ہو جانے کے بعد اور اس کے بعد جب روزہ دار افطار کر لیتا ہے، عصر کی نماز ادا کی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2889
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2878»