کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - صلاة الخوف کے ساتویں نوع کا ذکر
حدیث نمبر: 2885
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ صَاعِقَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، وَمَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : " فِي صَلاةِ الْخَوْفِ تَقُومُ طَائِفَةٌ وَرَاءَ الإِمَامِ وَطَائِفَةٌ خَلْفَهُ ، فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يَقْضُوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُونَ إِلَى مَكَانِ أَصْحَابِهِمْ ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ أَصْحَابُهُمْ إِلَى مَكَانِ هَؤُلاءِ ، فَيُصَلِّي بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ يَقْعُدُ مَكَانَهُ حَتَّى يُصَلُّوا رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ ، ثُمَّ يُسَلِّمُ " .
سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ نماز خوف کے بارے میں بیان کرتے ہیں: ایک گروہ امام کے سامنے کھڑا ہو گا دوسرا گروہ امام کے پیچھے کھڑا ہو گا امام اس گروہ کو ایک رکعت اور دو سجدے پڑھائے گا، جو اس کے پیچھے کھڑا ہے، پھر وہ اپنی جگہ پر بیٹھا رہے گا، یہاں تک کہ وہ لوگ (دوسری رکعت کا) ایک رکوع اور دو سجدے ادا کر لیں گے، پھر وہ لوگ اپنے ساتھیوں کی جگہ پر چلیں جائیں گے اور ان کے ساتھی اس جگہ پر آ جائیں گے امام انہیں ایک رکوع اور دو سجدے پڑھائے گا امام اپنی جگہ بیٹھا رہے گا، یہاں تک کہ وہ لوگ بھی ایک رکوع اور دو سجدے ادا کر لیں گے تو امام سلام پھیر دے گا۔
حدیث نمبر: 2886
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، فِي عَقِبِهِ قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ هَذَا .
یہی روایت امام ابن خزیمہ نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی ماند نقل کی ہے۔