کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: خوف یا جنگ کے حالات میں نماز ادا کرنے کا طریقہ اور اس کے احکام - اس بات کا ذکر کہ پہلی جماعت اپنے بھائیوں کے مصاف کی طرف جاتی ہے اور دوسرے لوگ امام کے پاس آتے ہیں جب وہ ہمارے بیان کردہ نماز پڑھنا چاہتے ہیں
حدیث نمبر: 2870
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ حَسَّانَ ، قَالَ : أَتَيْتُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَلاةِ الْخَوْفِ ، فَقَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَفٌّ خَلْفَهُ ، وَصَفٌّ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، ثُمَّ ذَهَبُوا إِلَى مَصَافِّ إِخْوَانِهِمْ ، وَجَاءَ الآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ ، فَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ ، وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَةٌ " .
قاسم بن حسان بیان کرتے ہیں: میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے نماز خوف کے بارے میں دریافت کیا: انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ایک صف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور ایک صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی پھر یہ لوگ اپنے بھائیوں کی جگہ پر جا کر کھڑے ہو گئے اور دوسرے لوگ آ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعات ہوئیں اور ہر ایک گروہ کی ایک رکعت ہوئی۔