کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو امام کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ استسقاء کرنا چاہے تو صالحین کے وسیلے سے اللہ سے دعا مانگے تاکہ دعا کی قبولیت کی امید ہو
حدیث نمبر: 2861
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ ثُمَامَةَ ، عَنِ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانُوا إِذَا قَحَطُوا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، اسْتَسْقَوْا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَيَسْتَسْقِي لَهُمْ فَيُسْقَوْنَ ، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِي إِمَارَةِ عُمَرَ ، قَحَطُوا ، فَخَرَجَ عُمَرُ بِالْعَبَّاسِ يَسْتَسْقِي بِهِ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا إِذَا قَحَطْنَا عَلَى عَهْدِ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَاسْتَسْقُينَا بِهِ ، فَسَقَيْتَنَا ، وإِنا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ الْيَوْمَ بِعَمِّ نَبِيِّكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَاسْقِنَا قَالَ : فَسُقُوا " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں جب قحط پڑ جاتا تھا تو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بارش کی دعا کیا کرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان لوگوں کے لیے بارش کی دعا کرتے تھے، تو ان لوگوں کو بارش عطا ہو جاتی تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں قحط آیا، تو عمر رضی اللہ عنہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر نکلے تاکہ ان کے وسیلے سے بارش کی دعا کریں انہوں نے یہ کہا: ” اے اللہ! پہلے تیرے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جب ہم قحط کا شکار ہوتے تھے، تو ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بارش کی دعا کرتے تھے، تو تو ہمیں سیراب کر دیتا تھا اب ہم تیرے نبی کے چچا کے وسیلے سے تیری بارگاہ میں دعا کرتے ہیں، تو ہمیں سیراب کر دے ۔“ راوی کہتے ہیں: ان لوگوں کو سیراب کر دیا گیا۔