کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس دعا کا ذکر جو آدمی مانگتا ہے جب مسلمانوں پر قحط پڑے
حدیث نمبر: 2860
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ زُهَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا طَاهِرُ بْنُ خَالِدِ بْنِ نِزَارٍ الأَيْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَبْرُورٍ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ الأَيْلِيِّ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : شَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَحْطَ الْمَطَرُ ، فَأَمَرَ بِالْمِنْبَرِ ، فَوُضِعَ لَهُ فِي الْمُصَلَّى ، وَوَعَدَ النَّاسَ يَوْمًا يَخْرُجُونَ فِيهِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ بَدَا حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَيْ عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِنَّكُمْ شَكَوْتُمْ جَدْبَ جِنَانِكُمْ ، وَاحْتِبَاسَ الْمَطَرِ عَنْ إِبَّانِ زَمَانِهِ عَنْكُمْ ، وَقَدْ أَمَرَكُمُ اللَّهُ أَنْ تَدَعُوهُ ، وَوَعَدَكُمْ أَنْ يَسْتَجِيبَ لَكُمْ " ، ثُمَّ قَالَ : " الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ، لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، تَفْعَلُ مَا تُرِيدُ ، اللَّهُمَّ أَنْتَ اللَّهُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ ، الْغَنِيُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ ، أَنْزِلْ عَلَيْنَا الْغَيْثَ ، وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّةً ، وَبَلاغًا إِلَى خَيْرٍ " ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ، ثُمَّ حَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ ، وَقَلَبَ أَوْ حَوَّلَ رِدَاءَهُ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ ، وَنَزَلَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، فَأَنْشَأَ اللَّهُ سَحَابًا فَرَعَدَتْ ، وَأَبْرَقَتْ ، وَأَمْطَرَتْ بِإِذْنِ اللَّهِ ، فَلَمْ نَلْبَثْ فِي مَسْجِدِهِ حَتَّى سَأَلَتِ السُّيُولُ ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَثَقَ الثِّيَابِ عَلَى النَّاسِ ، ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، وَقَالَ : " أَشْهَدُ أَنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، وَإِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: کچھ لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بارش نہ ہونے کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر کے بارے میں حکم دیا اسے عیدگاہ میں رکھا گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ساتھ ایک دن کا وعدہ کیا، اس دن وہ لوگ آئیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، جیسے ہی سورج نکلا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم نے اپنے باغات کے خشک ہونے کی شکایت کی اور ایک طویل عرصے سے بارش نہ ہونے کی شکایت کیاللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو یہ حکم دیا ہے، تم لوگ اس سے دعا مانگو اور اس نے تم سے یہ وعدہ کیا ہے، وہ تمہاری دعا کو قبول کرے گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پڑھا۔ ہر طرح کی حمداللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، جو بڑا مہربان ہے نہایت رحم کرنے والا ہے قیامت کے دن کا مالک ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے، تو جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے اے اللہ! تو ہی وہ اللہ ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو بے نیاز ہے اور ہم تیرے محتاج ہیں، تو ہم پر بارش نازل کر اور جو تو نے ہم پر نازل کیا ہے اسے قوت بنا دے اور بھلائی کی طرف پہنچانے والا بنا دے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ ہم نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت کو لوگوں کی طرف کیا، اور اپنی چادر کو الٹا دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہوئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی طرف رخ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے نیچے اتر آئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات نماز ادا کی تواللہ تعالیٰ نے بادل کو پیدا کیا، اور وہ کڑکا بجلی چمکی اور بارش شروع ہو گئی یہ اللہ کے حکم سے ہوا ابھی ہم مسجد میں ہی تھے، نالیاں بہنی شروع ہو گئیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا، لوگوں نے کپڑے اپنے اوپر کر لیے ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں بے شکاللہ تعالیٰ ہر شے پر قدرت رکھتا ہے اور میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔