کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے بیان کردہ موقع پر تبسم کیا
حدیث نمبر: 2859
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَحِطَ الْمَطَرُ عَامًا ، فَقَامَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ قَحِطَ الْمَطَرُ ، وَأَجْدَبَتِ الأَرْضُ ، وَهَلَكَ الْمَالُ ، قَالَ : فَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَمَا نَرَى فِي السَّمَاءِ سَحَابَةً ، فَمَدَّ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ بَيَاضَ إِبْطَيْهِ ، يَسْتَسْقِي اللَّهَ ، فَمَا صَلَّيْنَا الْجُمُعَةَ حَتَّى أَهَمَّ الشَّابَّ الْقَرِيبَ الدَّارِ الرُّجُوعُ إِلَى أَهْلِهِ ، فَدَامَتْ جُمُعَةً ، فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الَّتِي تَلِيهَا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ ، وَاحْتَبَسَ الرُّكْبَانُ ، قَالَ : فَتَبَسَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لِسُرْعَةِ مَلالَةِ بْنِ آدَمَ وَقَالَ بِيَدَيْهِ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا ، وَلا عَلَيْنَا " ، قَالَ : فَتَكَشَّفَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ایک سال تک بارش نہیں ہوئی تو بعض مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) بارش نہیں ہوئی زمین خشک ہو گئی ہے کھیتیاں ہلاکت کا شکار ہو رہی ہیں۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے ہمیں آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلائے یہاں تک کہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی نظر آ گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ تعالیٰ سے بارش کے لیے دعا کی ابھی ہم نے جمعہ ادا نہیں کیا تھا، (کہ اتنی تیز بارش شروع ہو گئی) کہ وہ نوجوان جس کا گھر مسجد کے قریب تھا اس نے یہ ارادہ کیا، وہ اپنے گھر چلا جائے پھر پورا ہفتہ بارش ہوتی رہی جب اس کے بعد والا جمعہ آیا، تو ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) گھر گر رہے ہیں سفر کرنا ممکن نہیں رہا۔ راوی کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ابن آدم کے جلدی ملال پر مسکرا دیئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کر کے دعا کی: اے اللہ! ہمارے آس پاس ہو ہم پر نہ ہو۔ راوی کہتے ہیں: مدینہ منورہ سے بادل چھٹ گیا۔