کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: بارش کے لیے طلب بارش کی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر جو آدمی کے لیے مستحب ہے کہ جب قحط پڑے تو وہ صالحین سے دعا اور مسلمانوں کے لیے استسقاء کی درخواست کرے
حدیث نمبر: 2857
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلَكَتِ الْمَوَاشِي ، وَتَقَطَّعَتِ السُّبُلُ ، فَادْعُ اللَّهَ ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : فَمُطِرْنَا مِنَ الْجُمُعَةِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَهَدَّمَتِ الْبُيُوتُ ، وَهَلَكَتِ الْمَوَاشِي ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " اللَّهُمَّ عَلَى رُؤُوسِ الْجِبَالِ ، وَالآكَامِ ، وَبُطُونِ الأَوْدِيَةِ ، وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ " ، قَالَ : فَانْجَابَتْ عَنِ الْمَدِينَةِ انْجِيَابَ الثَّوْبِ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں سفر کرنا ممکن نہیں رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلماللہ تعالیٰ سے دعا کیجیئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےاللہ تعالیٰ سے دعا کی راوی کہتے ہیں: ایک جمعے سے لے کر اگلے جمعے تک ہم پر بارش ہوتی رہی راوی کہتے ہیں: پھر ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) گھر گر رہے ہیں مویشی ہلاکت کا شکار ہو رہے ہیں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی۔ ” اے اللہ! پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور نشیبی علاقوں میں اور جنگلات میں بارش ہو۔ “ راوی کہتے ہیں: مدینہ منورہ سے بادل یوں چھٹ گیا جس طرح کپڑا پھٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 2857
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1066)، «الإرواء» (2/ 144 / 416): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 2846»