کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ گرہن زمین کے عظیم لوگوں کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے
حدیث نمبر: 2856
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَلْفُ بْنُ هِشَامٍ الْبَزَّارُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبَّادٍ ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ، قَالَ : قَامَ يَوْمًا خَطِيبًا فَذَكَرَ فِي خُطْبَتِهِ ، حَدِيثًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَمُرَةُ : بَيْنَما أَنَا وَغُلامٌ مِنَ الأَنْصَارِ نَرْمِي غَرَضًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى إِذَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ ، فَكَانَتْ فِي عَيْنِ النَّاظِرِ قِيدَ رُمْحٍ أَوْ رُمْحَيْنِ اسْوَدَّتْ ، فَقَالَ أَحَدُنَا لِصَاحِبِهِ : انْطَلَقَ بِنَا إِلَى مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَوَاللَّهِ لَتُحْدِثَنَّ هَذِهِ الشَّمْسُ الْيَوْمَ لِرَسُولِ اللَّهِ فِي أُمَّتِهِ حَدِيثًا ، قَالَ : فَدَفَعْنَا إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَوَافَقْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حِينَ خَرَجَ فَاسْتَقَامَ فَصَلَّى ، فَقَامَ بِنَا كَأَطْوَلِ مَا قَامَ فِي صَلاةٍ قَطُّ ، لا نَسْمَعُ لَهُ صَوْتًا ، ثُمَّ قَامَ فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ بِالرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ ، ثُمَّ جَلَسَ فَوَافَقَ جُلُوسَهُ تَجَلِّي الشَّمْسِ ، فَسَلَّمَ وَانْصَرَفَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَشَهِدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَأَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّمَا بَشَرٌ رَسُولٌ أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنِّي قَصَّرْتُ عَنْ شَيْءٍ بِتَبْلِيغِ رِسَالاتِ رَبِّي لَمَّا أَخْبَرْتُمُونِي " ، فَقَالَ النَّاسُ : نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالاتِ رَبِّكِ ، وَنَصَحْتَ لأُمَّتِكَ ، وَقَضَيْتَ الَّذِي عَلَيْكَ . ثُمَّ قَالَ : " أَمَا بَعْدُ فَإِنَّ رِجَالا يَزْعُمُونَ أَنَّ كُسُوفَ هَذِهِ الشَّمْسِ ، وَكُسُوفَ هَذَا الْقَمَرِ ، وَزَوَالِ هَذِهِ النُّجُومِ عَنْ مَطَالِعِهَا لِمَوْتِ رِجَالٍ عُظَمَاءَ مِنْ أَهْلِ الأَرْضِ ، وَإِنَّهُمْ كَذَبُوا ، وَلَكِنَّهَا آيَاتُ اللَّهِ يَعْتَبِرُ بِهَا عِبَادُهُ لَيَنْظُرَ مَنْ يُحَدِّثُ مِنْهُمْ تَوْبَةً ، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ مَا أَنْتُمْ لاقُونَ فِي أَمْرِ دُنْيَاكُمْ ، وَأَخِرَتِكُمْ مُذْ قُمْتُ أُصَلِّي ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَخْرُجَ ثَلاثُونَ كَذَّابًا أَحَدُهُمُ الأَعْوَرُ الدَّجَّالُ مَمْسُوحُ عَيْنِ الْيُسْرَى ، كَأَنَّهَا عَيْنُ أَبِي تِحْيَى شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، بَيْنَهُ وَبَيْنَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ خَشَبَةٌ ، وَإِنَّهُ مَتَى يَخْرُجُ ، فَإِنَّهُ سَوْفَ يَزْعُمُ أَنَّهُ اللَّهُ ، فَمَنْ آمَنَ بِهِ وَصَدَّقَهُ ، وَاتَّبَعَهُ ، فَلَيْسَ يَنْفَعُهُ عَمِلٌ صَالِحٌ مِنْ عَمِلٍ سَلَفَ ، وَإِنَّهُ سَيَظْهَرُ عَلَى الأَرْضِ كُلِّهَا غَيْرَ الْحَرَمِ ، وَبَيْتِ الْمَقْدِسِ ، وَإِنَّهُ يَسُوقُ الْمُسْلِمِينَ إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ، فَيُحَاصَرُونَ حِصَارًا شَدِيدًا " ، قَالَ الأَسْوَدُ : وَظَنِّي أَنَّهُ قَدْ حَدَّثَنِي ، أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ يَصِيحُ فِيهِ ، فَيَهْزِمُهُ اللَّهُ وَجُنُودَهُ ، حَتَّى إِنَّ أَصْلَ الْحَائِطِ ، أَوْ جِذْمَ الشَّجَرَةِ لَيُنَادِي : يَا مُؤْمِنُ هَذَا كَافِرٌ ، مُسْتَتِرٌ بِي ، تَعَالَ فَاقْتُلْهُ ، وَلَنْ يَكُونَ ذَلِكَ كَذَلِكَ حَتَّى تَرَوْا أُمُورًا عِظَامًا يَتَفَاقَمُ شَأْنُهَا فِي أَنْفُسِكُمْ ، وَتَسَاءَلُونَ بَيْنَكُمْ : هَلْ كَانَ نَبِيِّكُمْ ذِكْرُ لَكُمْ مِنْهَا ذِكْرًا ، وَحَتَّى تَزُولَ جِبَالٌ عَنْ مَرَاتِبِهَا ، قَالَ : ثُمَّ عَلَى إِثْرِ ذَلِكَ الْقَبْضُ ، ثُمَّ قَبَضَ أَطْرَافَ أَصَابِعِهِ ، ثُمَّ قَالَ مَرَّةً أُخْرَى : وَقَدْ حَفِظْتُ مَا قَالَ ، فَذَكَرَ هَذَا فَمَا قَدَّمَ كَلِمَةً عَنْ مَنْزِلِهَا وَلا أَخَّرَ أُخْرَى " .
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک مرتبہ وہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے، تو انہوں نے اپنے خطبے کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کی سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی، ایک مرتبہ میں اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک لڑکا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں نشانے بازی کر رہے تھے اسی دوران سورج طلوع ہوا، تو وہ دیکھنے والے کو ایک نیزے جتنا یا دو نیزے جتنا محسوس ہو رہا تھا باقی سیاہ تھا ہم میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے کہا: ہم اللہ کے رسول کی مسجد کی طرف چلتے ہیں اللہ کی قسم! سورج کی یہ حالت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے لیے کوئی نیا حکم لے کر آئے گی ہم لوگ مسجد کی طرف آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت گھر سے تشریف لائے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے نماز ادا کرنا شروع کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جتنی بھی نمازیں پڑھائی تھیں وہ ان میں سے سب سے طویل تھی ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز نہیں سنی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھنے کے دوران ہی گرہن ختم ہو گیا، آپ نے سلام پھیرا نماز مکمل کی پھراللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور اس بات کی گواہی دی،اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں ایک انسان ہوں، جسے رسول کے طور پر مبعوث کیا گیا، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، اگر تم لوگ یہ بات جانتے ہو، میں نے اپنے پروردگار کے پیغام کی تبلیغ میں کوئی کوتاہی کی ہے، تو تم مجھے اس بارے میں بتاؤ لوگوں نے عرض کی: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کے پیغام کو پہنچا دیا ہے اور اپنی امت کی خیر خواہی کی ہے اور جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ادا کر دیا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں، سورج کا گرہن ہونا چاند کا گرہن ان ستاروں کا اپنے مطلع سے گرنا زمین سے تعلق رکھنے والے کسی بڑے آدمی کے انتقال کی وجہ سے ہوتا ہے یہ لوگ غلط سمجھتے ہیں، بلکہ یہ اللہ کی نشانیاں ہیں، جن کے ذریعےاللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو عبرت دلاتا ہے تاکہ وہ لوگ توبہ کی طرف آئیں۔ اللہ کی قسم! تم نے اپنے دنیا اور آخرت کے معاملے میں جس بھی صورت حال کا سامنا کرنا ہے وہ میں نے ابھی یہاں نماز ادا کرنے کے دوران کھڑے ہوئے دیکھ لی ہے اللہ کی قسم! قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک تمیں کذابوں کا ظہور نہیں ہو گا جن میں سے ایک کانا دجال ہو گا اس کی بائیں آنکھ نہیں ہو گی وہ ابوتحیی کی آنکھ کی مانند ہو گی یہ انصار کا ایک بوڑھا تھا اس کے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے درمیان ایک لکڑی تھی۔ دجال کا جب بھی ظہور ہو گا، تو وہ یہی دعویٰ کرے گا، وہ اللہ ہے اور جو اس کی تصدیق کرے گا پیروی کرے گا، تو اس کے پہلے کا کوئی بھی نیک عمل اسے فائدہ نہیں دے گا اور عنقریب دجال تمام روئے زمین پر غالب آ جائے گا صرف حرم کی حدود اور بیت المقدس پر قبضہ نہیں کر سکے گا وہ مسلمانوں کو بیت المقدس کی طرف جانے پر مجبور کر دے گا وہ لوگ شدید محاصرہ کریں گے۔ اسود نامی راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں، اسی دوران سیدنا عیسی بن مریم علیہ السلام ان کے درمیان آئیں گے تواللہ تعالیٰ دجال کو اور اس کے لشکروں کو پسپا کر دے گا، یہاں تک کہ دیوار کی بنیاد اور درخت کا تنا بھی یہ پکار کر کہیں گے: اے مومن! یہ کافر ہے، جو میرے پیچھے چھپا ہوا ہے تم آگے آؤ اور اسے قتل کر دو اور ایسا اس وقت تک نہیں ہو گا، جس وقت تک تم عظیم امور نہیں دیکھو گے، جو تمہیں پریشان کر دیں گے تم ایک دوسرے سے پوچھو گے، تمہارے نبی نے اس کا ذکر تمہارے سامنے کیا تھا وہ ایسی آزمائش ہو گی، پہاڑ اپنی جگہ سے ہل جائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اس کے بعد قبض ہو گا۔ پھر انہوں نے اپنی انگلیوں کے کناروں کو بند کیا، پھر انہوں نے دوسری مرتبہ یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ میں نے دیکھی ہے، پھر انہوں نے یہی چیز ذکر کی اور اس میں کوئی ایک لفظ بھی اپنی جگہ سے پہلے یا بعد میں بیان نہیں کیا۔