کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی پر لازم ہے کہ سورج یا چاند گرہن دیکھ کر برکت حاصل کرے، یعنی اللہ کے لیے توبہ کرے یا اپنے لیے کوئی اطاعت پیش کرے
حدیث نمبر: 2854
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " كُنَّا نَرَى الآيَاتِ فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَكَاتٍ ، وَأَنْتُمْ تَرَوْنَهَا تَخْوِيفًا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : خَبَرُ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ، لَيْسَ بِصَحِيحٍ لأَنَّ حَبِيبًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ طَاوُسٍ هَذَا الْخَبَرَ ، وَكَذَلِكَ خَبَرُ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهُ عَلَيْهِ ، أَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، صَلَّى فِي صَلاةِ الْكُسُوفِ هَذَا النَّحْوَ ، لأَنَا لا نَحْتَجَّ بِحَنَشٍ وَأَمْثَالِهِ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَكَذَلِكَ أَغْضَيْنَا عَنْ إِمْلائِهِ .
سیدنا عبدالله رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں (ظاہر ہونے والی) نشانیوں کو برکت کا نشان سمجھتے تھے جبکہ تم انہیں خوف دلانے والی چیز سمجھتے ہو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) حبیب بن ابوثابت نے طاؤس کے حوالے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج گرہن کی نماز میں آٹھ رکوع کیے تھے۔ چار سجدے کیے تھے۔ یہ روایت صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ حبیب نے طاؤس کے حوالے سے یہ روایت نہیں سنی ہے۔ اسی طرح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول یہ روایت کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کسوف اس طرح ادا کی تھی وہ بھی درست نہیں ہے کیونکہ ہم حنش اور اس جیسے راویوں کی احادیث سے استدلال نہیں کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم ان کی املاء کروائی ہوئی روایت سے بھی چشم پوشی کرتے ہیں۔